غزہ: اسرائیلی فوج کے جاری وحشیانہ حملوں کے نتیجے میں غزہ میں مزید 70 فلسطینی شہید ہو گئے ہیں۔ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق حملوں میں تیزی آ گئی ہے اور صرف آج صبح سے اب تک درجنوں جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔
شہداء میں سے 27 افراد غزہ سٹی میں نشانہ بنے، جہاں اسرائیلی افواج شہری علاقوں پر بمباری کرتے ہوئے قبضے کی کوششوں اور شہریوں کو زبردستی بے دخل کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔
غزہ کے سول ڈیفنس کے ترجمان محمود بصل نے بتایا کہ اسرائیلی حملے خاص طور پر گنجان آباد رہائشی علاقوں پر ہو رہے ہیں، تاکہ لوگوں کو شہر چھوڑ کر جنوب کی جانب جانے پر مجبور کیا جا سکے، جہاں پہلے ہی انسانی حالات تباہ کن ہیں۔
جبری انخلا کے شکار کئی خاندانوں کا کہنا ہے کہ وہ پناہ کے لیے جگہ ڈھونڈنے میں ناکام ہو رہے ہیں، اور بمباری کے باوجود کئی بار اپنے تباہ شدہ گھروں میں واپس جانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
محمود بصل نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ اسرائیل کی اس پالیسی کو رکوائیں جو نہ صرف اخلاقی طور پر غلط ہے بلکہ بین الاقوامی قوانین کی بھی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔
ادھر اقوام متحدہ کے ادارے یونیسف کے مطابق غزہ میں غذائی قلت میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔ اگست میں شدید غذائی قلت کا شکار بچوں کا تناسب 13.5 فیصد تک جا پہنچا ہے، جبکہ صرف غزہ سٹی میں یہ شرح 20 فیصد سے بھی زیادہ رہی۔