: پنجاب کی باکردار بیٹیاں اور پختونخوا کے بازاری ایوان دار

09:31 PM, 12 Sep, 2026

تحریر : حافظ سید عاصم علی 

آئینِ پاکستان ہی وہ مقدس دستور ہے جس کے تحت مملکتِ خداداد اپنی منزل کی جانب گامزن ہے۔ یہی دستور ہے جس کی بدولت چاروں صوبوں اور ریاستوں کے منتخب وزرائے اعلیٰ عوام کی خدمت، نظم و نسق اور فلاح کے ذمہ دار ہیں۔ اسی آئین کے تحت ہر وزیر کو سرکاری مراعات، پروٹوکول اور الاؤنسز اس نیت سے دیے جاتے ہیں تاکہ وہ ذاتی آسائشوں کی بجائے عوام کی بھلائی کے لیے اپنا وقت، صلاحیت اور توانائی صرف کرے۔  لیکن سوال یہ ہے کہ کیا تمام صوبے ان مراعات کا درست استعمال کر رہے ہیں؟ اگر غیر جانبدارانہ تجزیہ کیا جائے تو جواب نفی میں ملے گا۔ آج پاکستان کے چاروں صوبوں اور ریاستوں میں سے صرف ایک صوبہ ہی ایسا ہے جو ترقی، فلاح اور عوامی خدمت کی نئی تاریخ رقم کر رہا ہے اور وہ ہے صوبہ پنجاب۔  سرکاری وسائل کا جائز اور شفاف استعمال پنجاب میں واضح نظر آ رہا ہے۔
 یہی وجہ ہے کہ نا صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا پنجاب کی کارکردگی کی معترف ہے۔ اگر صرف "ستھرا پنجاب" مہم کی ہی بات کر لی جائے تو دنیا حیران ہے کہ کس طرح وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے چند ماہ کی انتھک محنت، دن رات کی نگرانی اور لگن سے پورے صوبے کو دنیا کے صاف ستھرے صوبوں کی فہرست میں شامل کر دیا۔ کچرے کے ڈھیر اٹھ گئے، گلیاں چمک اٹھیں اور شہریوں کو صاف ماحول میسر آیا۔  یہاں بات صرف صفائی تک محدود نہیں۔ پنجاب میں اس وقت ترقی کا ایک حقیقی انقلاب برپا ہے۔ ای بائیک انقلاب نے طلبہ اور طالبات کو خودمختاری دی۔ اپنی چھت اپنا گھر نے غریبوں کو چھت دی۔ فیلڈ ہسپتال نے گھر کی دہلیز پر علاج پہنچایا۔ کسان کارڈ اور ہمت کارڈ کسان اور مستحق طبقے کا سہارا بنے۔ فہرست اتنی لمبی ہے کہ اگر لکھنے بیٹھیں تو صفحات کم پڑ جائیں۔ ہر منصوبے کے مرکز میں صرف اور صرف عام آدمی ہے۔ دوسری طرف باقی صوبوں کا حال یہ ہے کہ انہیں بھی آئین کے تحت یہی مراعات، یہی وسائل اور یہی اختیارات ملے ہوئے ہیں۔ لیکن وہاں کارکردگی کا گراف صفر ہے۔ وہاں ترقی کی بجائے تنقید ہے۔ وہاں عوامی فلاح کے بجائے ذاتی مفادات ہیں۔ وہاں کام کے بجائے صرف نازیبا اور غیر شائستہ بیان بازی ہے۔ سب سے زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ ایک صوبہ ایسا بھی ہے جہاں قومی خزانے سے ملنے والی یہ تمام آسائشیں عوام کی فلاح پر خرچ ہونے کی بجائے دوسرے صوبے کے منتخب نمائندوں خاص طور پر وزیر اطلاعات و ثقافت عظمیٰ بخاری کے خلاف زہر اگلنے پر صرف کی جا رہی ہیں۔ حال ہی میں اسی صوبے کے ایک وزیر نے ایک سرکاری فورم پر کھڑے ہو کر وزیرِ اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمیٰ بخاری اور وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے خلاف جو نازیبا، غیر پارلیمانی اور بازاری زبان استعمال کی، اس نے پورے پاکستان کو شرمندہ کر دیا۔ ایوانوں کی دیواریں اس زبان سے لرز اٹھیں۔ پورا پاکستان اس شخص کی تربیت پر نالاں ہے۔  یہ زبان آخر کیوں استعمال کی گئی؟ اس کی وجہ بہت واضح ہے۔ 
وجہ یہ ہے کہ اب عوام باشعور ہو چکی ہے۔ عوام سوال پوچھ رہی ہے۔ عوام پوچھتی ہے کہ کیوں ایک صوبے کے وزراء دن رات بیرونِ ملک جا کر سرمایہ کاری لا رہے ہیں، نوجوانوں کو روزگار دے رہے ہیں، عوام کے آرام و سکون کے لیے اپنا چین و سکون قربان کر رہے ہیں۔  عوام پوچھتی ہے کہ کیوں وزیرِ اطلاعات اور وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور انکی ٹیم  گرمی سردی کی پروا کیے بغیر سڑکوں پر نکلی ہوئی ہیں، ہر ضلعے کا دورہ کر رہی ہیں، ہر منصوبے کی خود نگرانی کر رہی ہیں۔ جبکہ دوسری طرف ایک صوبے میں صرف ایک شخصیت کی ناکامیوں، کرپشن اور ملک دشمن عزائم کو چھپانے کے لیے قومی خزانے کا بے دریغ ضیاع کیا جا رہا ہے۔  یہ گالی گلوچ، یہ ہتک آمیز زبان دراصل اس غصے کو چھپانے کی ایک ناکام کوشش ہے جو عوام کے دل میں اپنے حق نہ ملنے پر ہے۔ مخالفین سمجھتے ہیں کہ ذاتی حملے کر کے وہ عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹا دیں گے۔ لیکن وہ بھول گئے کہ اب 2026 کا پاکستان ہے۔ اب عوام سوشل میڈیا اور ٹی وی کے ذریعے ہر چیز دیکھ رہی ہے۔  
یہ یاد رکھا جائے کہ ذاتی حملے، الزام تراشی اور بدزبانی  کسی سچے اور عوام دوست لیڈر کو کمزور نہیں کر سکتے۔ تاریخ گواہ ہے کہ بڑے لیڈر ہمیشہ تنقید کی بھٹی سے گزر کر ہی نکھرتے ہیں۔ وزیرِ اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمیٰ بخاری اور ان کی پوری ٹیم، جن کی قیادت وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کر رہی ہیں، نے نا پہلے کبھی ان گھٹیا ہتھکنڈوں کی پروا کی ہے اور نا اب کریں گی۔ عظمیٰ بخاری نے جس بہادری اور دلیل سے پنجاب حکومت کا موقف پیش کیا اور جھوٹے پروپیگنڈے کا جواب دیا، وہ قابلِ تحسین ہے۔ یہ ٹیم مخالفین کی تنقید کو اپنے لیے ترقی کا میڈل سمجھتی ہے۔
بقول شاعر  
"تندیِ بادِ مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب  
یہ تو چلتی ہیں تجھے اونچا اڑانے کے لیے" 
آج پنجاب کی ترقی خود بول رہی ہے۔ ستھرا پنجاب بول رہا ہے، ای بائیکس بول رہی ہیں، نئی سڑکیں بول رہی ہیں، ہسپتال بول رہے ہیں۔ اور یہی چیز مخالفین کے پیٹ میں درد اور بے چینی کی اصل وجہ ہے۔ انہیں پنجاب کی ترقی ہضم نہیں ہو رہی۔  پاکستان کے استحکام کے لیے ضروری ہے کہ تمام صوبے پنجاب کے ماڈل کو اپنائیں۔ وسائل کو عوام پر خرچ کیا جائے، نہ کہ گالیوں اور الزام تراشی پر۔ وقت کو ترقی میں لگایا جائے، نہ کہ سازشوں میں۔ دعا ہے کہ اللہ پاک وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور وزیرِ اطلاعات و ثقافت عظمیٰ بخاری جیسے چٹان کی طرح پرعزم، محنتی اور عوام دوست حکمران باقی صوبوں کو بھی عطا کرے۔ تاکہ پورا پاکستان، پنجاب کی طرح ترقی، خوشحالی اور امن کی راہ پر گامزن ہو۔ کیونکہ مضبوط صوبے ہی مضبوط پاکستان کی ضمانت ہیں۔

نوٹ: neonews.pkاوراس کی پالیسی کا  کالم نگار/بلاگر کی رائے سے متفق ہونا  ضروری نہیں ہے

مزیدخبریں