افغانستان میں آزاد صحافت کا قتل: طالبان دور میں صحافیوں پر تشدد اور بلاجواز گرفتاریوں میں تشویشناک اضافہ

02:10 PM, 13 Apr, 2026

کابل:افغانستان میں طالبان کی حکومت کے زیرِ سایہ آزاد صحافت کا دم گھٹنے لگا ہے۔ صحافیوں پر بڑھتے ہوئے تشدد، بلاجواز گرفتاریوں اور سخت ترین سنسر شپ نے ملک میں میڈیا کی صنعت کو مکمل تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ افغانستان میڈیا سپورٹ آرگنائزیشن نے تازہ ترین رپورٹ میں زیرِ حراست صحافیوں کی حالتِ زار پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
صحافتی تنظیم کی جانب سے جاری کردہ بیان میں طالبان رجیم کے ہتھکنڈوں کا پردہ فاش کیا گیا ہے۔ بلاجواز گرفتاریوں اور ناجائز حراست نے صحافیوں کے درمیان شدید خوف، دباؤ اور عدم تحفظ کا احساس پیدا کر دیا ہے۔ ظالمانہ سنسر شپ کے باعث صحافی اب حقائق بیان کرنے سے قاصر ہیں، جس سے عوام تک درست معلومات کی رسائی مسدود ہو چکی ہے۔
متعدد صحافیوں کو بغیر کسی قانونی کارروائی یا الزام کے نامعلوم مقامات پر قید رکھا گیا ہے، جہاں ان کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، افغانستان میں میڈیا سپورٹ کا ڈھانچہ مکمل طور پر مفلوج ہو چکا ہے۔ طالبان کی جانب سے معلومات کے بہاؤ کو کنٹرول کرنے کے لیے طاقت کا بے دریغ استعمال کیا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے سینکڑوں مقامی میڈیا ہاؤسز بند ہو چکے ہیں اور ہزاروں صحافی بے روزگار یا ملک چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔
افغانستان میڈیا سپورٹ آرگنائزیشن نے عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ طالبان پر دباؤ بڑھائیں تاکہ صحافیوں کی بلاجواز گرفتاریوں کا سلسلہ روکا جا سکے اور زیرِ حراست میڈیا نمائندوں کی فوری رہائی ممکن ہو سکے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ اگر یہ سلسلہ نہ رکا تو افغانستان سے آزادانہ رپورٹنگ کا تصور ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا۔

مزیدخبریں