لاہور: عظیم صوفی بزرگ حضرت داتا علی ہجویریؒ کے 982 ویں عرس کی تین روزہ تقریبات کا آغاز آج سے ہوگیا ہے۔ عرس کی تقریبات 13 سے 15 اگست تک جاری رہیں گی، جس میں ملک بھر سے زائرین کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ اس موقع پر لاہور میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ زائرین کو کسی بھی قسم کی مشکل کا سامنا نہ ہو۔
حضرت داتا علی ہجویریؒ، جنہیں داتا صاحبؒ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، تقریباً ایک ہزار سال قبل افغانستان سے لاہور تشریف لائے اور بھاٹی دروازے کے قریب قیام فرمایا۔ آپ کے اخلاق اور حسنِ کردار نے غیر مسلموں کو بھی اسلام کی جانب راغب کیا، اور آپ کی تصنیف "کشف المحجوب" تصوف کی معتبر ترین کتابوں میں شمار کی جاتی ہے۔
عرس کے دوران قرأت، نعت خوانی اور سماع کی محفلیں منعقد کی جائیں گی، جو روحانی سکون اور علم کا باعث ہوں گی۔ اس کے علاوہ زائرین کے لیے لنگر، دودھ کی سبیلیں اور مٹھائیوں کی دکانیں بھی سجادی گئی ہیں۔
پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے دربار کے اطراف کا دورہ کیا اور زائرین کے داخلی و خارجی راستوں کا معائنہ کیا، تاکہ کسی بھی قسم کی مشکلات سے بچا جا سکے۔ تمام راستوں کو کنٹینرز لگا کر سیل کر دیا گیا ہے، اور بلال گنج، کربلا گامے شاہ کے اطراف کے راستے بھی بند کر دیے گئے ہیں، تاہم موٹر سائیکل سواروں اور پیدل چلنے والے افراد کے لیے گزرنے کی گزرگاہ موجود ہے۔
پنجاب حکومت نے عرس کے موقع پر 15 اگست کو لاہور میں عام تعطیل کا اعلان کیا ہے۔ ایم سی ایل، ایل ڈی اے، ٹیپا، واسا، پی ایچ اے اور دیگر متعلقہ اداروں میں چھٹی ہوگی، جبکہ سول سیکرٹریٹ اور ماتحت ادارے کھلے رہیں گے۔
حضرت داتا علی ہجویریؒ کے عرس کی یہ تقریبات لاہور میں روحانیت کی ایک نیا رنگ بھرنے کا موقع فراہم کرتی ہیں، اور لاکھوں عقیدت مند اس میں شرکت کرکے روحانی سکون اور علم کا خزانہ حاصل کرتے ہیں۔