اسلام آباد: پاکستان اور ناروے نے باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں دوطرفہ تعلقات اور تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے۔ اس حوالے سے مفاہمت نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور ناروے کے وزیر خارجہ ایسپن بارتھ ایدے کے درمیان اسلام آباد میں ملاقات کے دوران ہوئی۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان ناروے کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور انہیں مزید مستحکم کرنے کا خواہاں ہے۔ دونوں ممالک نے تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم، دفاع، موسمیاتی تبدیلی، آئی ٹی اور بحری امور میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور ناروے کے درمیان تجارت دونوں ممالک کی معاشی صلاحیت کے مطابق نہیں، اس لیے تجارت کے فروغ کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ناروے کی کمپنیوں کے لیے سرمایہ کاری کے وسیع مواقع فراہم کرتا ہے۔
اسحاق ڈار نے بتایا کہ ناروے کی معروف کمپنی یارا انٹرنیشنل پاکستان میں فوجی فرٹیلائزر کمپنی کے ساتھ پلانٹ نیوٹریشن کے شعبے میں مشترکہ منصوبہ قائم کر رہی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ منصوبہ دونوں ممالک کے درمیان مزید سرمایہ کاری اور کاروباری منصوبوں کی راہ ہموار کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ ناروے کے ساتھ ٹیکنالوجی تعاون کامیابی کی ایک مثال ہے اور ناروے کے لیے پاکستان کی آئی ٹی برآمدات میں پانچ گنا اضافہ ہوا ہے۔ دونوں ممالک نے مختلف معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں کو جلد حتمی شکل دینے پر بھی اتفاق کیا۔
ناروے کے وزیر خارجہ نے پاکستان اور ناروے کے درمیان مضبوط شراکت داری کو سراہتے ہوئے حالیہ ایران امریکا تنازع کے دوران پاکستان کے اہم اور تعمیری کردار کی تعریف کی۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کوششوں کو دنیا کے لیے اہم خدمت قرار دیا۔