آبنائے ہرمز میں تعطل، عالمی تیل کے ذخائر پر دباؤ بڑھنے لگا

06:10 PM, 13 Aug, 2026

تہران: آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت معطل ہونے کے باعث دنیا بھر میں تیل کی سپلائی متاثر ہونے لگی ہے، جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر تیل کے ذخائر میں تیزی سے کمی دیکھی جا رہی ہے۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ ہرمز سے تجارتی اور تیل بردار جہازوں کی نقل و حرکت رکنے سے عالمی توانائی منڈی کو مسلسل دباؤ کا سامنا ہے اور مختلف ممالک کے تیل کے ذخائر تیزی سے کم ہورہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول کے دعوے کے باوجود زمینی صورتحال خاصی پیچیدہ ہے۔ بحری جہازوں کو پیش آنے والے حملوں کے خدشات کے باعث شپنگ کمپنیاں اور عملہ اپنی سلامتی کے حوالے سے شدید تحفظات کا شکار ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ حملوں کا سلسلہ شروع ہونے کا خطرہ بھی برقرار ہے، جس نے بحری تجارت اور عالمی تیل کی ترسیل کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔

ایران کا مؤقف ہے کہ جب تک اس کی شرائط پوری نہیں کی جاتیں، آبنائے ہرمز میں معمول کی بحری آمدورفت بحال نہیں کی جائے گی، جس سے عالمی توانائی کی سپلائی کے حوالے سے خدشات میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔

مزیدخبریں