ڈھاکہ/نئی دہلی: بنگلہ دیش میں عوامی لیگ کے طویل دورِ اقتدار کے خاتمے اور بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی بھاری اکثریت سے فتح کے بعد جنوبی ایشیا کا سیاسی نقشہ تبدیل ہونا شروع ہو گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق، اب بنگلہ دیش کے لیے سب سے بڑا چیلنج انڈیا اور پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات میں ایک انتہائی محتاط اور تعمیری توازن قائم کرنا ہے۔
انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی نے بی این پی کی فتح پر طارق رحمان کو مبارکباد دیتے ہوئے ایک اہم بیان جاری کیا ہے۔ انہوں نے کہا انڈیا ایک جمہوری، ترقی پسند اور سب کو ساتھ لے کر چلنے والے بنگلہ دیش کی حمایت جاری رکھے گا۔ بی این پی کی فتح عوام کے اعتماد کا مظہر ہے۔
وزیراعظم مودی نے مزید کہا کہ وہ طارق رحمان کے ساتھ مل کر کثیر جہتی تعلقات کو مضبوط بنانے اور مشترکہ ترقیاتی اہداف کو آگے بڑھانے کے خواہشمند ہیں۔ یہ بیان اس بات کی علامت ہے کہ انڈیا نے ڈھاکہ میں نئی سیاسی حقیقتوں کو تسلیم کر لیا ہے۔
شیخ حسینہ کے 2024 میں رخصت ہونے کے بعد ڈھاکہ اور اسلام آباد کے درمیان تعلقات میں ایک نئی گرمجوشی دیکھی جا رہی ہے۔ تاریخی طور پر بی این پی کا جھکاؤ پاکستان کی طرف رہا ہے، اور اب دونوں ممالک دوبارہ تعلقات استوار کر رہے ہیں۔ انڈیا ان بڑھتے ہوئے مراسم کو گہری نظر سے دیکھ رہا ہے کیونکہ وہ پاکستان کو اپنا سب سے بڑا حریف سمجھتا ہے۔ سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کی انڈیا میں موجودگی دونوں ممالک کے درمیان ایک حساس مسئلہ بنی ہوئی ہے، جس نے ڈھاکہ اور دہلی کے تعلقات میں تناؤ پیدا کیا ہے۔
بی این پی کی قیادت نے واضح کیا ہے کہ وہ تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ "دوستانہ اور تعمیری" تعلقات چاہتی ہے۔ تاہم، حقیقت یہ ہے کہ ڈھاکہ کو درج ذیل محاذوں پر سخت محنت کرنی ہوگی۔انڈیا بنگلہ دیش کا ایک ناگزیر تجارتی شراکت دار ہے، جسے نظر انداز کرنا معاشی طور پر ممکن نہیں ہے۔
انڈیا کے درمیان گھرا ہونے کی وجہ سے بنگلہ دیش کو اپنی سیکیورٹی اور ٹرانزٹ کے لیے دہلی کے ساتھ تعاون کرنا پڑے گا۔ بی این پی کو اپنی پاکستان نواز ساکھ اور انڈیا کی اسٹریٹجک ضرورتوں کے درمیان ایک ایسا راستہ نکالنا ہوگا جو ملکی مفاد میں ہو۔بنگلہ دیش کا سیاسی مستقبل اب اس بات پر منحصر ہے کہ طارق رحمان کس طرح مودی حکومت کے شکوک و شبہات دور کرتے ہیں اور ساتھ ہی پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو ایک نئی بلندی پر لے جاتے ہیں۔
بنگلہ دیش اور انڈیا کے تعلقات کا نیا مرحلہ ، دہلی اور اسلام آباد کے درمیان سفارتی توازن کا چیلنج
03:02 PM, 13 Feb, 2026