واشنگٹن: مشرقِ وسطیٰ میں امن کی بحالی کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اہم منصوبے ’بورڈ آف پیس‘ کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔ آئندہ ہفتے 19 فروری کو واشنگٹن ڈی سی میں منعقد ہونے والے اس بورڈ کے پہلے باضابطہ اجلاس میں غزہ کی تعمیرِ نو اور سیکیورٹی سے متعلق تاریخی اعلانات کیے جائیں گے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے بھی باضابطہ طور پر اس امن بورڈ میں شامل ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق 19 فروری کے اجلاس میں کم از کم 20 ممالک کے وفود شرکت کریں گے۔ اس موقع پر غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے ایک کثیر ارب ڈالر فنڈ کے قیام کا اعلان کیا جائے گا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ متعدد ممالک نے اس فنڈ کے لیے رضاکارانہ طور پر مالی امداد کی پیشکش کی ہے تاکہ جنگ زدہ علاقے میں زندگی کی بحالی ممکن ہو سکے۔
منصوبے کا سب سے اہم پہلو غزہ میں ایک بین الاقوامی استحکامی فورس کی تعیناتی ہے، جسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی توثیق بھی حاصل ہوگی۔ متعدد ممالک ہزاروں فوجی فراہم کرنے پر آمادہ ہو گئے ہیں۔ اس فورس کا بنیادی مقصد جنگ کے بعد غزہ میں سیکیورٹی کو یقینی بنانا اور انتظامی استحکام برقرار رکھنا ہے۔مجوزہ منصوبے کے تحت حماس کو غیر مسلح کرنے پر سخت زور دیا گیا ہے۔ تاہم جو ارکان ہتھیار ڈال کر پرامن بقائے باہمی پر آمادہ ہوں گے، انہیں عام معافی دی جا سکتی ہے۔
غزہ چھوڑنے کے خواہش مند افراد کو محفوظ راستہ فراہم کرنے کی تجویز بھی پلان کا حصہ ہے۔حماس نے ان شرائط کو اسرائیلی قبضے کے خاتمے سے مشروط کیا ہے۔
اجلاس میں غزہ کا نظام چلانے کے لیے قائم قومی کمیٹی کی پیش رفت پر بھی بریفنگ دی جائے گی۔ یہ کمیٹی انسانی امداد کی تقسیم، پولیس نظام کی بحالی اور روزمرہ کے انتظامی امور کی نگرانی کرے گی۔
یہ پیش رفت مشرقِ وسطیٰ کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کی ایک بڑی سفارتی کامیابی سمجھی جا رہی ہے، تاہم اس پر عملدرآمد کے حوالے سے حماس اور اسرائیل کے درمیان موجود اختلافات اب بھی ایک بڑا چیلنج ہیں۔
غزہ کے لیے ٹرمپ کا ’ماسٹر پلان‘، اربوں ڈالرز کا فنڈ، عالمی فوج کی تعیناتی اور اسرائیل کی شمولیت
04:01 PM, 13 Feb, 2026