ایران میں احتجاج اور عالمی طاقتیں: ایک پیچیدہ منظرنامہ

03:08 PM, 13 Jan, 2026

تحریر: طارق وسیم

ایران میں حکومت مخالف مظاہرے جاری ہیں  جن میں  خواتین کی بڑی  تعداد بھی شامل ہے ،شرکا  موجودہ رجیم سے  اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کر رہے ہیں ،یورپ  اور امریکہ   انسانی حقوق کے نام پر  مظاہرین کی  پشت پناہی کر رہے ہیں اور ایران کو بارہا متنبہ کر چکے ہیں کہ وہ ان پر سختی نہ کرے ، ایرانی حکومت نے ملک میں انٹر نیٹ بند کر رکھا ہے ۔
  ایلون مسک کے سٹار لنک کے ذریعے کچھ ویڈیوز باہر آرہی تھیں ،اب وہ بھی آنا بند ہو گئی ہیں کیونکہ ایرانی حکومت سٹار لنک کو شٹ ڈاؤن کرنے میں بھی کامیاب ہو گئی ہے ،لوگ کہنا شروع ہو گئے ہیں کہ وہی خفیہ ہاتھ جو اسرائیل کے خلاف ایران کو  ہاری جنگ جتوا گیا تھا پھر متحرک ہو گیا  ہے ، ایران اسرائیل جنگ میں امریکی ساختہ ایف 35 جنگی جہاز گرنا  امریکہ کے لیے پہلا دھچکہ تھا اور سٹار لنک کا بند ہونا دوسرا دھچکہ قرار دیا جا رہا ہے ، یہ خفیہ ہاتھ بھی بہت ہی خفیہ ہے جس کا تقریبا سب کو پتہ ہے ، ہاں چند یورپی اور امریکی صحافی سب کچھ ہوجانے  کے بعد بتا ضرور دیتے ہیں، کہ ایران کا ساتھ کس نے دیا تھا ۔
ا یک محتاط اندازے کےمطابق مظاہرے کم ازکم بتیس شہروں میں جاری ہیں  ، دس سے پندرہ لاکھ افراد سڑکوں پر ہیں ،دوسری جانب حکومت کے حق میں بھی عوام کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل رہی ہے ،ایرانی وزارت  داخلہ  کا کہنا ہے  حکومت کے حق میں مظاہرین دن کی روشنی میں نکلتےاور ان کی تعداد ساری دنیا  دیکھتی ہے ، جبکہ مخالفین رات کے اندھیرے میں   نکلتے ہیں۔حکومت مخالف مظاہرین میڈیا کوریج نہ ہونے کا شکوہ کرتے ، بین الاقوامی  میڈیا دفتر کے باہر  جا پہنچے اور  دھرنا  بھی دیا    ،ادھر ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ وہ ایران میں چند مخصوص اہداف فائنل کر چکے ہیں، جہاں کسی بھی وقت  ایئر سٹرائیک کی جا سکتی ہے  جس کا فیصلہ وہ آج کریں گے لیکن ایرانی حکومت  مظاہروں پر قابو پانے میں کامیاب ہوتی نظر آ رہی ہے جس کے بعد ٹرمپ کے لیے کوئی بڑا فیصلہ کرنا مشکل ہو سکتا ہے ،مگر غیر سیاسی سوچ کے حامل ڈونلڈ ٹرمپ کچھ بھی کر سکتے ہیں ۔ یہ بھی قابل ذکر ہے کہ  امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران سے تجارت کرنے والے ممالک پر فوری طور پر 25 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔دوسری جانب نائب امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران پر کسی بھی ممکنہ حملے سے قبل سفارتکاری کو موقع دینا چاہیے اور مسائل کا حل بات چیت کے ذریعے تلاش کیا جانا ضروری ہے۔

اس لیے آج کی رات اہم تو ہے ہی ،امریکی ایئر فورس شام میں  داعش کے ٹھکانوں کو نشانہ  بنا رہی ہے ،ایک امریکی جریدے کے مطابق وائٹ ہاؤس کو تہران پر حملے سے روکنے میں پاکستان کا کردار سب سے اہم ہے ۔ یہ بھی قابل ذکر ہے کہ  رجیم چینج غیر یقینی صورتحال پیدا کر دے گی ،جس  کا فائدہ چھوٹی چھوٹی ٹکڑیوں میں    بٹے ہوئے دہشت گرد گروہ اٹھائیں گے ۔یمن میں جاری جنگ کا مکمل خاتمہ کیے بغیر  ایران میں کسی  قسم کی تبدیلی کارگر  نہیں ہو گی ۔ امریکی انتظامیہ پاکستان کے کہنے پر ایران میں فوجی آپریشن روکے ہوئے ہے، دوسری جانب  سعودی عرب نے سوڈان اور یمن میں باقاعدہ حکمت عملی کے ساتھ پروفیشنل انداز میں  حملے شروع کر رکھے ہیں، جو اس بات کی نشانی ہے کہ سعودی عرب بھی نہ صرف جنگ لڑنے کے قابل ہو چکا ہے بلکہ  اس کی زمینی اور فضائی افواج کافی ایڈوانس اور ویل ٹرینڈ بھی ہیں ۔ 
اسرائیلی وزیر خارجہ  نے  دورہ بھارت  کے دوران دعویٰ کیا ہے کہ  پاکستان غزہ امن فورس کا حصہ نہیں ہوگا دوسری جانب ڈونلڈٹرمپ نے اپنی فوج  کو گرین لینڈ پر قبضے کا پلان بنانے کا حکم دے دیا ہے جس پر امریکی فوجی ماہرین اور تھنک ٹینک تذبذب کا شکا ر  ہے ، وہ ڈنمارک  میں کوئی ایڈونچر نہیں کرنا چاہتے  جس کی وجہ ڈینش حکومت اور  نیٹو کا  دوٹوک موقف ہے ، برطانیہ اور فرانس کے علاوہ سارا یورپ گرین لینڈ پر قبضے کی کسی بھی امریکی کوشش  کے خلاف  مزاحمت کے لیے تیار ہے ، اس سے بھی زیادہ اہم روس کی جانب سے  بین البر اعظمی ہائپر سونک میزائل اوریشنک کا  یوکرین کے شہرلاویف  میں استعمال ہے ۔روسی اسلحہ عمومی طور پر  بہت زیادہ کارگر نہیں سمجھا جاتا لیکن اوریشنک کی  رفتار اور   ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنانے کی صلاحیت پر امریکہ اور  یورپ کافی حیران و پریشان ہیں ۔
واضح رہے کہ پاکستان اور چین بھی ہائپر سونک میزائلز کے حامل ممالک ہیں ،شمالی کوریا بھی اس شعبے  میں کافی آگے جا چکا ہے ،اندریں حالات ہر دو صورتوں میں طاقت کا توازن  پاکستان نے برقرار رکھنا ہے ،جس پلڑے  میں ہم گئے وہ بھاری ہو جائے گا اور پاکستان کو توازن برقرار رکھتے ہوئے کامیابی سے آگے بڑھنے کا 78 سالہ تجربہ ہے ،اس لیے مشرق وسطیٰ  میں کچھ بھی پاکستان کی حمایت  اور مشاورت کے بغیر  ممکن  نہیں  اور پاکستان ایڑی چوٹی کا زور لگا رہا ہے  کہ دنیا کو  کسی  بڑی جنگ سے روکا جا سکے ،لیکن بد قسمتی سے دنیا کے چند ممالک کی قیادت اس وقت سطحی لوگوں کے ہاتھ میں ہے اور وہ کسی بھی احمقانہ  حرکت سے دنیا کا امن خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔

نوٹ: neonews.pkاوراس کی پالیسی کا  کالم نگار/بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے


طارق وسیم پاکستان بالخصوص لاہور کی صحافت میں جانا پہچانا نام ہے دو دہائی قبل انگریزی جرنلزم سے کیریئر کا آغاز کرنے والے طارق وسیم نے براڈ کاسٹ جرنلزم میں بطور رپورٹر،اینکر اور نیوز ڈیپارٹمنٹ میں  اپنی منفرد پہچان بنائی ہے۔

مزیدخبریں