ایران۔اسرائیل کشیدگی: عسکری طاقت کا تفصیلی موازنہ اور خطے پر اثرات

01:49 PM, 13 Jun, 2025

اسلام آباد: اسرائیل کے 200 جنگی جہازوں کی ایران پر بڑے پیمانے پر حملے نے خطے میں نئی جنگ کا خطرہ بڑھا دیا ہے۔ اس حملے میں ایران کے اعلیٰ فوجی کمانڈر میجر جنرل محمد باقری، پاسداران انقلاب کے سربراہ میجر جنرل حسین سلامی اور متعدد جوہری سائنسدان شہید ہوئے، جبکہ ایرانی میڈیا کے مطابق عام شہری بھی ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔

یہ واقعہ عالمی سطح پر ایران اور اسرائیل کی عسکری طاقت کے تقابلی جائزے کو بھی اہمیت دیتا ہے۔ برطانوی تھنک ٹینک IISS کی رپورٹ کے مطابق ایران کے پاس 610,000 فعال فوجی ہیں جن میں فوج، پاسداران انقلاب، بحریہ، فضائیہ اور دفاعی نظام کے اہلکار شامل ہیں، جبکہ 350,000 ریزرو فورس بھی موجود ہے۔ ایران میں 18 سال سے زائد عمر کے مردوں کے لیے فوجی خدمت لازمی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل کے پاس 169,500 فعال فوجی ہیں، جن میں سے زیادہ تر فوج میں اور باقی بحریہ اور فضائیہ میں تعینات ہیں۔ اسرائیل کے پاس 465,000 کی ریزرو فورس ہے اور وہاں بھی فوجی خدمات لازمی ہیں۔ دفاعی بجٹ میں اسرائیل نے 2023 میں 27.5 بلین ڈالر خرچ کیے، جو ایران کے 10.3 بلین ڈالر سے تین گنا سے زیادہ ہے، جس کی بڑی وجہ خطے میں جاری تنازعات اور اسرائیل کی جدید ٹیکنالوجی پر سرمایہ کاری ہے۔

ایران کے پاس ہزاروں جنگی ٹینک، توپیں اور بکتر بند گاڑیاں ہیں، جبکہ اسرائیل کے پاس جدید اور کم تعداد میں ٹینک اور توپیں ہیں، مگر ان کی فضائیہ اور بحریہ زیادہ جدید اور فعال ہے۔ اسرائیل کا "آئرن ڈوم" دفاعی نظام مشہور ہے جو میزائل حملوں کو روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جب کہ ایران نے بھی کئی دفاعی میزائل نظام متعارف کروائے ہیں۔

جوہری صلاحیتوں کے حوالے سے اسرائیل کے پاس اندازاً 90 جوہری ہتھیار موجود ہیں، جبکہ ایران کا جوہری پروگرام ابھی تک ہتھیار بنانے کی سطح تک نہیں پہنچا، تاہم اس کے جوہری تنصیبات اور پروگرام کی عالمی نگرانی جاری ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کی عسکری طاقتیں مختلف النوع ہیں, ایران کی فوجی تعداد زیادہ ہے اور وہ خطے میں اثرورسوخ رکھنے والا ایک بڑا کھلاڑی ہے، جبکہ اسرائیل کی جدید ٹیکنالوجی اور دفاعی صلاحیت اسے طاقتور بناتی ہے۔ اس کشیدگی کے نتیجے میں پورا مشرق وسطیٰ اور عالمی سلامتی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔

مزیدخبریں