تہران:ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے اسرائیلی حملوں میں جنرل محمد باقری کی ہلاکت کے بعد ایڈمرل (ر) حبیب اللہ سیاری کو ایرانی فوج کا قائم مقام سربراہ مقرر کر دیا ہے۔ ان کی تقرری ایران کی عسکری قیادت میں تیزی سے کی جانے والی وہ پہلی تبدیلی ہے جو دشمن کو پیغام دیتی ہے کہ ایرانی افواج کی کارروائیوں میں کوئی خلل نہیں آئے گا۔
سیاری، جو 2007 سے 2017 تک ایران کی بحریہ کے سربراہ رہ چکے ہیں، حالیہ برسوں میں چیف آف اسٹاف کے معاون برائے ہم آہنگی کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں "فتح" کا اعلیٰ ترین فوجی اعزاز بھی دیا جا چکا ہے۔ ایران عراق جنگ میں وہ شدید زخمی ہوئے اور ان کی جسمانی معذوری کی شرح 75 فیصد ہے، تاہم وہ دفاعی اداروں میں بھرپور فعال کردار ادا کرتے رہے ہیں۔
ایرانی مسلح افواج کے مطابق اسرائیل کے خلاف ردِ عمل کی کوئی حد نہیں ہو گی، اور فوجی قیادت میں تبدیلی بھی اسی فیصلے کا حصہ ہے تاکہ ’’تسلسل، مزاحمت اور انتقام‘‘ کی پالیسی جاری رکھی جا سکے۔