نئی دہلی/تہران: ایران نے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے بیان کے بعد اسرائیل اور امریکی تنصیبات پر شدید بمباری کی ہے۔ ایرانی حملوں میں تل ابیب کے مرکز، امریکی ایئر کیریئر اور فوجی اڈے نشانہ بنائے گئے۔ اسرائیل کے بن گوریان ایئرپورٹ پر افراتفری مچ گئی اور مسافر عملے کے ساتھ ہاتھا پائی پر مجبور ہو گئے۔
سعودی عرب نے بھی مشرقی اور وسطی علاقوں میں ایرانی ڈرونز کو تباہ کرنے کی اطلاع دی، اب تک کم از کم 22 ڈرون ناکام بنائے گئے ہیں۔ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ایران کے بروجرد اور تہران میں فوجی تنصیبات، پولیس ہیڈ کوارٹر اور بسج فورس کو نقصان پہنچا۔ تہران میں حملے جوہری سائٹس کے قریب ہوئے، جس سے عالمی نیوکلیئر نگرانی میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے۔
لبنان میں اسرائیلی فورسز کے حملوں میں اب تک 687 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں 90 سے زائد بچے بھی شامل ہیں۔ فرانس نے بھی پیشمرگہ بیس پر حملے میں اپنے فوجیوں کے زخمی اور ایک کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے مطابق بحرین کے امریکی بحری اڈے اور دیگر تنصیبات پر بھی حملے کیے گئے، جن میں ڈرون اسٹوریج، اینٹی ڈرون دفاعی نظام اور ایندھن کے ٹینک شامل ہیں۔ عراق میں امریکی ری فیولنگ طیارہ گرنے پر ایران نے بھی حملہ کرنے کا دعویٰ کیا۔
یونیسف کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک خطے میں 1100 سے زائد بچے ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں۔ سعودی عرب نے مزید 10 ڈرونز تباہ کر کے ملک کی سلامتی کو یقینی بنایا۔