افغانستان میں دہشت گردوں کے 70 ٹھکانوں پر فضائی حملے، کابل اور قندھار میں لاجسٹک بیسز نشانہ بنیں: عطا تارڑ

07:23 PM, 13 Mar, 2026

اسلام آباد : وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے "آپریشن غضب للحق" کے دوران دہشت گردوں کو پہنچنے والے نقصانات کی تفصیلات جاری کر دی ہیں۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ 'ایکس' پر اپنے ایک اہم بیان میں انہوں نے بتایا کہ حالیہ فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں دہشت گرد گروہوں کو غیر معمولی جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔۔
وفاقی وزیر کے مطابق، اس آپریشن کے دوران اب تک 663 دہشت گرد ہلاک اور 887 زخمی ہو چکے ہیں۔ کارروائی کے دوران دہشت گردوں کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بناتے ہوئے درج ذیل کامیابیوں کا دعویٰ کیا گیا ہے۔    249 چوکیاں مکمل طور پر تباہ کر دی گئیں،    44 چوکیاں سیکیورٹی فورسز نے اپنے قبضے میں لے لیں۔    دہشت گردوں کے زیر استعمال 224 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور توپیں تباہ کی گئیں۔
عطا تارڑ نے بتایا کہ 12 اور 13 مارچ کی درمیانی شب افغانستان میں دہشت گردوں سے منسلک ٹھکانوں پر بھرپور فضائی حملے کیے گئے۔ یہ کارروائیاں کابل، پکتیا اور قندھار میں دہشت گردوں کے لاجسٹک بیسز اور کیمپوں پر کی گئیں۔ مجموعی طور پر افغانستان بھر میں دہشت گردوں اور ان کے معاونین کے 70 مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔
وفاقی وزیر نے افغان حکام اور میڈیا کے دعوؤں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ نہایت درستگی کے ساتھ صرف دہشت گردوں کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ کسی بھی شہری آبادی یا سویلین تنصیبات کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
حکومت کی جانب سے ان فضائی حملوں کی ویڈیو بھی جاری کر دی گئی ہے تاکہ آپریشن کی شفافیت اور اہداف کی درستگی کو واضح کیا جا سکے۔

مزیدخبریں