گلگت بلتستان کے سیاسی جلسوں میں کسی جماعت نے ایجنڈہ نہیں دیا۔تجزیہ کار

پولیٹیکل انجنیئرنگ کون کررہا ہے کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ۔رہنما ن لیگ چوہدری جعفراقبال

09:19 PM, 13 Nov, 2020

گلگت بلتستان میں تینوں پارٹیوں نے جلسے کئے لیکن ایجنڈہ نہیں دیا۔ تجزیہ کار چوہدری پرویز اقبال لوسر 

تجزیہ کار چوہدری پرویزاقبال لوسر نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں پاکستان کی تینوں بڑی سیاسی پارٹیاں جلسے تو کررہی ہیں لیکن عوام کو اپنا ایجنڈہ نہیں دے رہیں۔ وہ پروگرام جمہور میں اپنے خیالات کا اظہار کررہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں بڑی سیاسی جماعتیں اپنا لائحہ عمل بتانے کی بجائے بلیم گیم میں لگی ہوئی ہیں۔۔ گلگت  بلتستان کے عوام کی محرومیوں کودور کرنا ہے تو پھر ہمیں کوئی ایجنڈہ یا منشور دینا چاہئے۔ ابھی تک وہاں پر تمام جماعتیں ایسی زبان استعمال کررہی ہیں جو کبھی یہ اپنی فیملی میں استعمال نہیں کرسکتے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں گالی گلوچ کا کلچر ختم کرنا چاہئے۔ہمیں مستقبل کے لئے کوئی لائحہ عمل دینا چاہئے۔ ان کا کہنا تھا کہ یورپ میں عوام اپنے لیڈر کے بارے میں بات کرسکتے ہیں لیکن پاکستان میں ایسا نہیں ہے یہاں پر یہ ہوتا ہے کہ ہمارا لیڈر کوئی غلط کام نہیں کرسکتا اور ہمیں ا س سوچ سےآگے نکلنا ہوگا۔ جی بی کے الیکشن پر سروے کے مطابق سب سے زیادہ سیٹیں پی ٹی آئی لے گی۔ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ایک ہی خاندان کے آگےدس بارہ خاندان  ہیں اس کو جمہوریت نہیں کہتے کیا ان کے علاوہ کوئی اور قابل آدمی نہیں جو آگے آسکے۔ یہ پہلا الیکشن ہے جس کی بہت زیادہ کوریج کی جارہی ہے۔ جی بی اور آزادکشمیر میں ہمیشہ سے یہ پریکٹس رہی ہے کہ جس کی وفاق میں حکومت ہوتی ہے اس کی ہی حکومت جی بی یا آزادکشمیر میں ہوتی ہے۔گلگت بلتستان کا پہلا الیکشن ہے جس میں مداخلت نہیں ہورہی اوریہ پتہ چل جائے گا کہ کون بڑا طرم خان ہے۔ عالمی اسٹیبلشمنٹ کا کردار دنیا کے ہر ملک میں ہے۔پولیٹیکل انجنئیرنگ ہر ملک میں ہوتی ہے۔ شہبازشریف نے ایک تقریر میں کہا کہ میں آصف زرداری کو سڑکوں پر گھسیٹوں گا لیکن جب ان کی حکومت آئی اور ان سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ یہ سیاسی نعرہ تھا۔ 

پروگرام میں موجود مسلم لیگ ن کے رہنما چوہدری جعفر اقبال نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک اور ہمارے سیاسی کلچر میں بہت فرق ہے۔ن لیگ کی قیادت نے جلسوں میں اپنا منشور اورپروگرام بتایا ہے۔جب ہمیں حکومت ملی تھی تو اس وقت پاکستان کی صورتحال بہت خراب تھی کاروبار نہیں تھا ہم نے ملک سے دہشتگردی ختم کی ہم نے ملک کے اندھیروں کو ختم کیا وہ الگ بات ہے کہ موجودہ حکومت نے بجلی کے نرخ بہت زیادہ بڑھا دیئے۔ ہم نے پاکستان کو اور اس کے عوام کو سی پیک دیا۔ دیا میر بھاشاڈیم ن لیگ کی ہی کوششوں کا نتیجہ ہے جس سے ملک سے بجلی کے مسائل اور بھی ختم ہوجائیں گے۔ ہم نے انتظامی طور پر بہت سے اضلاع بنائے۔گلگت بلتستان کا یہ تیسرا الیکشن ہے جس میں ن لیگ کو عوام نے سراہا ہے۔ پولیٹیکل انجنیئرنگ کون کرتا ہے یہ کسی سے ڈھکاچھپا نہیں ہے۔ پی ٹی آئی کے پاس جی بی کے لئے کوئی منشور نہیں ہے اگر ہے تو سامنے لائیں۔ بلوچستان کو گوادر سے جو فوائد ملنے والے ہیں وہ بہت ہی حیران کن ہوں گے۔ 


تحریک انصاف کے رہنما رمیش کمار کا کہنا تھا کہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں نے ایکدوسرے کے خلاف گالی گلوچ کا کلچر شروع کیا۔سیاست میں خدمت ہونی چاہئے لیکن انہوں نے عوام کی خدمت نہیں کی۔انہوں نے کہا کہ گلگت میں جب بھی الیکشن ہوتا ہے تو عوام وفاق کو دیکھ کر ہی فیصلہ کرتی ہے۔گلگت کے الیکشن میں اس مرتبہ تبدیلی نظر آئے گی۔ اس وقت پیپلزپارٹی نے بہت زیادہ محنت کی ہے اسی طرح ن لیگ نے بھی بہت کوشش کی ہے۔ عوام نے تینوں پارٹیوں کے جلسوں کو انجوائے کیا ہے۔ اب وہ سوچ سمجھ کر ہی فیصلہ کریں گے۔ الیکٹ ایبلز کی سیاست ماضی میں بھی تھی ابھی بھی ہے۔ہر بندہ غلطیاں کرتا ہے اوریہ غلطیاں ماضی میں بھی تھیں اب بھی ہیں۔ موجودہ حکومت پاکستان کے حوالے سے پاپولر فیصلے کررہی ہے۔موجودہ حالات میں پولیٹیکل انجنیئرنگ نہیں ہورہی ایسا ماضی میں ہوتا تھا لیکن اب کوئی چاہے بھی تویہ ممکن نہیں ہے۔ عوام کس پارٹی کا ساتھ دے رہے ہیں اس پرکسی کودباؤ میں نہیں لایا جاسکتا۔ 

مزیدخبریں