سیالکوٹ : یونیورسٹی آف سیالکوٹ میں ایسوسی ایشن آف پرائیویٹ سیکٹر یونیورسٹیز آف پاکستان (ایپ سپ) کی ملک گیر آگاہی مہم کے سلسے میں منعقدہ خصوصی سیشن "2030 کا پاکستان، چیلنجز، امکانات اور نئی راہیں" سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ایپ سپ کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر چودھری عبدالرحمان نے کہا کہ پاکستان کو بنے 80 سال ہو چکے ہیں اور 20 سال بعد ہمارا ملک 100 سال کا ہو جائے گا۔ انہوں نے نوجوانوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ہم یہ بتانا چاہتے ہیں کہ آپ کیسا پاکستان دیکھنا چاہتے ہیں اور اس کے لیے آپ کی ذمہ داری کیا ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر چودھری عبدالرحمان نے کہا کہ پاکستان نے 80 سال گزارے، لیکن شاید ہم اسے اس مقام تک نہیں پہنچا سکے جہاں اسے پہنچنا چاہیے تھا۔ "پاکستان میں 95 فیصد مسلمان آباد ہیں، لیکن افسوس کا مقام ہے کہ ہم آج تک نبی پاک ﷺ کے سچے رہنمائی کے اصولوں کو مکمل طور پر اپنانے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔"
انہوں نے مزید کہا کہ نبی پاک ﷺ کی ذات بہترین رول ماڈل ہے، جس پر عمل کرکے ہم اپنی قوم کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ "اگر ہم چاہتے ہیں کہ سوسائٹی میں تبدیلی آئے، تو سب سے پہلے خود کو تبدیل کرنا ہوگا۔"
پروفیسر ڈاکٹر چودھری عبدالرحمان نے سیالکوٹ کے وسائل کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ "یہ وسائل یہاں خرچ ہونے چاہئیں، اور ہمیں اپنے علاقے کی ترقی کے لیے کام کرنا ہوگا۔" انہوں نے میاں عامر محمود کی رہنمائی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ "میاں عامر محمود نوجوانوں کے لیے ایک اچھے لیڈر کی مثال ہیں اور وہ خود نوجوانوں کے پاس جا کر تبدیلی لا رہے ہیں۔"
پروفیسر ڈاکٹر چودھری عبدالرحمان نے ملک کی موجودہ معاشی اور سماجی صورتحال پر بھی گفتگو کی، اور کہا کہ "پاکستان کو آج کل اقتصادی بحران کا سامنا ہے، اور غربت و بیروزگاری میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔"
نوجوانوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ "نوجوان محنت کی بجائے راتوں رات امیر بننے کے خواہش مند ہیں اور دولت کمانے کے نئے راستے سوچ رہے ہیں۔" تاہم، انہوں نے یہ بھی کہا کہ اصل مسئلہ نوجوانوں کا نہیں بلکہ فیکلٹی کی کارکردگی کا ہے، جو انہیں صحیح رہنمائی فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ "ہم نوجوانوں کو ڈاکٹر یا پائلٹ تو بنا رہے ہیں، لیکن ایڈوانسڈ ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے دور میں ہم انہیں انسان نہیں بنا پا رہے۔"
پروفیسر ڈاکٹر چودھری عبدالرحمان نے نوجوانوں کو مشورہ دیا کہ جب بھی کسی کی شخصیت یا کردار کو بہتر بنانا ہو، تو ایک مضبوط رول ماڈل کو اپنائیں، اور اس کی تقلید کریں۔ "اگر نوجوان اس رول ماڈل کو فالو کریں گے، تو کامیابی ان کے قدم چومے گی۔"
آخر میں، پروفیسر ڈاکٹر چودھری عبدالرحمان نے کہا کہ ملک میں تبدیلی لانے کے لیے ہمیں سب سے پہلے خود کو تبدیل کرنا ہوگا، اور اس کے لیے نوجوانوں کی محنت اور ان کی مثبت رہنمائی ضروری ہے۔