لاہور: پنجاب حکومت نے مینوئل اسلحہ لائسنس کی کمپیوٹرائزیشن کے حوالے سے بڑا فیصلہ کیا ہے۔ ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق، حکومت نے مینوئل اسلحہ لائسنس کی توثیق اور کمپیوٹرائزیشن کا عمل روک دیا ہے۔ اس سے قبل حکومت پنجاب نے مینوئل اسلحہ لائسنس کے حامل شہریوں اور اداروں کو کمپیوٹرائزیشن کے لیے آخری موقع فراہم کیا تھا۔
نئے فیصلے کے تحت انفرادی، ادارہ جاتی اور سکیورٹی کمپنیوں کے مینوئل اسلحہ لائسنسوں کی ری ویلیڈیشن اور کمپیوٹرائزیشن کا عمل فوری طور پر روک دیا گیا ہے۔ محکمہ داخلہ نے اس حوالے سے نیا حکم نامہ جاری کر دیا ہے اور اس کے تحت تمام سابقہ احکامات کو کالعدم قرار دے دیا گیا ہے۔ محکمہ داخلہ نے تمام ڈویژنل کمشنرز اور ایڈیشنل سیکرٹری جوڈیشل سے مارچ تا نومبر 2023 کے دوران کمپیوٹرائزڈ کیے گئے اسلحہ لائسنس کے بارے میں رپورٹ طلب کر لی ہے۔
اس کے علاوہ، پنجاب بھر میں غیر قانونی اسلحہ جمع کرانے اور ڈی ویپنائزیشن مہم کے حوالے سے بھی رپورٹس طلب کی گئی ہیں۔ پنجاب کے تمام کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز سے 13 نومبر تک مفصل رپورٹیں طلب کی گئی ہیں، جن میں مارچ سے نومبر تک موصول ہونے والی درخواستوں اور جاری کردہ حکم ناموں کی تفصیلات بھی شامل ہیں۔
محکمہ داخلہ پنجاب نے مینوئل اسلحہ لائسنس کی کمپیوٹرائزیشن کا عمل 2016 میں شروع کیا تھا، اور اس کی آخری تاریخ 31 دسمبر 2020 تھی۔ دسمبر 2020 تک کمپیوٹرائزڈ نہ ہونے والے مینوئل اسلحہ لائسنس منسوخ کر دیے گئے تھے۔ تازہ پیش رفت کے مطابق محکمہ داخلہ نے اس عمل کے بارے میں تمام ڈویژنل کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو مراسلہ جاری کیا ہے۔