اسلام آباد:مارگلہ ڈائیلاگ میں شرکا نے ٹیکنالوجی، تعاون اور علاقائی ہم آہنگی پرزور دیا۔اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ (IPRI) کے زیرِ اہتمام ’’مارگلہ ڈائیلاگ‘‘ میں ملکی و غیرملکی ماہرین، دانشوروں اور پالیسی سازوں نے علاقائی انضمام، رابطوں، مصنوعی ذہانت (AI)،مثبت امیج اور داخلی سلامتی جیسے موضوعات پر تفصیلی غور و خوض کیا۔
وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشن شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ ٹیکنالوجی خصوصاً مصنوعی ذہانت آج کے دور میں جنگ اور حکمرانی کا بنیادی جزو بن چکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان اس ٹیکنالوجیکل انقلاب کو اپنانے کے لیے ایک قومی روڈمیپ پر عمل پیرا ہے، جس کا مقصد سافٹ ویئر و ہارڈویئر کی مقامی تیاری، اختراعات کو فروغ دینا اور سٹارٹ اپس و تکنیکی ماہرین کی معاونت ہے۔
آئی پی آر آئی کے ڈائریکٹر ریسرچ بریگیڈیئر (ر) ڈاکٹر راشد ولی جنجوعہ نے کہا کہ مصنوعی ذہانت جنگ کے خدوخال اور انسانی وجود کو بدل رہی ہے۔ خودکار ہتھیاروں اور ڈرونز کے ذریعے جنگ کی نوعیت تبدیل ہو رہی ہے، جیسا کہ غزہ، یوکرین اور پاک بھارت تنازعات میں دیکھا گیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی سطح پر انسانی ہمدردی کے قوانین میں ترامیم اور ’’کل سوئچ‘‘ جیسے حفاظتی اقدامات ضروری ہیں تاکہ انسان کا کنٹرول برقرار رہے۔
ڈائریکٹر ایڈووکیسی و کمیونی کیشن صدیق ہمایوں نے کہا کہ طاقت ہمیشہ ایجاد کے پیچھے چلتی ہے، توپوں سے لے کر سلیکان چپس تک، اور اب مصنوعی ذہانت دنیا کے نظم، حکمرانی اور معلومات کے بہاؤ کو تشکیل دے رہی ہے۔ دانشور جاوید جبار نے زور دیا کہ پاکستان کی ایٹمی قوت قومی طاقت کا اہم جزو ہے مگر اس کے ساتھ مثبت امیج، مثبت کہانیوں اور تعمیری اقدامات کے ذریعے ملک کی عالمی شبیہ بہتر بنائی جا سکتی ہے۔
انڈس واٹر کمشنر سید مہر علی شاہ نے دریاؤں کو پاکستان کی شناخت قرار دیتے ہوئے پانی کے پائیدار اور پرامن انتظام کی ضرورت پر زور دیا، جبکہ سابق کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل (ر) عامر ریاض نے امدادی انحصار سے نکل کر برابری کی بنیاد پر شراکت داری اور ’’گرے پاور‘‘ کے استعمال کی تجویز دی۔
علاقائی روابط اور افغانستان کی صورتحال بھی اجلاس کے اہم نکات میں شامل رہی۔ سابق سفیر آصف درانی نے کہا کہ افغانستان کی غیر مستحکم صورتحال علاقائی رابطوں میں بڑی رکاوٹ ہے۔ جنرل (ر) احسان الحق نے بتایا کہ پاکستان طالبان کے ساتھ تجارت و انسانی بنیادوں پر رابطے بڑھا رہا ہے تاہم امن مذاکرات میں خاطر خواہ پیشرفت نہیں ہوئی۔
قازقستان کے سفیر یرزہان کسٹافین نے پاکستان اور وسطی ایشیا کو جوڑنے والے تجارتی راستوں، خصوصاً بلوچستان۔افغانستان۔ ترکمانستان۔قازقستان کوریڈور کی تجویز دی۔ سابق افغان سفارتکار ادریس زمان نے کہا کہ علاقائی امن کا انحصار افغانستان کے اندرونی استحکام پر ہے، جس کے لیے تعاون اور اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے۔