پنجاب حکومت نے مینوئل اسلحہ لائسنس کی کمپیوٹرائزیشن روکنے کا فیصلہ کر لیا

03:05 PM, 13 Nov, 2025

لاہور : پنجاب حکومت نے مینوئل اسلحہ لائسنس کی کمپیوٹرائزیشن اور توثیق کے عمل کو روکنے کا بڑا فیصلہ کر لیا ہے۔ محکمہ داخلہ پنجاب کے ترجمان کے مطابق پرانے مینوئل اسلحہ لائسنسوں کی کمپیوٹرائزیشن کا عمل مؤخر کر دیا گیا ہے۔

حکومت نے پہلے ہی مینوئل اسلحہ لائسنس کے حامل شہریوں اور اداروں کو کمپیوٹرائزیشن کے لیے آخری موقع فراہم کر رکھا تھا۔ نئے فیصلے کے تحت انفرادی، ادارہ جاتی اور سکیورٹی کمپنیوں کے مینوئل اسلحہ لائسنسوں کی ری ویلیڈیشن و کمپیوٹرائزیشن کا عمل فوری طور پر روک دیا گیا ہے اور محکمہ داخلہ نے ان کے لیے نیا حکم نامہ جاری کر دیا ہے۔

محکمہ داخلہ نے تمام سابقہ احکامات کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ڈویژنل کمشنرز اور ایڈیشنل سیکرٹری جوڈیشل سے مارچ تا نومبر کے دوران کمپیوٹرائزڈ کیے گئے لائسنسز کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ اس کے علاوہ، صوبے میں غیر قانونی اسلحہ جمع کرانے اور ڈی ویپنائزیشن مہم کے حوالے سے بھی رپورٹس طلب کی گئی ہیں۔

یاد رہے کہ محکمہ داخلہ نے 2016ء میں مینوئل اسلحہ لائسنسز کی کمپیوٹرائزیشن کا عمل شروع کیا تھا اور اس کی آخری تاریخ 31 دسمبر 2020 مقرر کی گئی تھی، جس کے بعد کمپیوٹرائزڈ نہ ہونے والے لائسنس منسوخ کر دیے گئے تھے۔

نئی ہدایات کے تحت تمام ڈویژنل کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو مراسلہ جاری کر دیا گیا ہے، اور رپورٹیں 13 نومبر کی شام تک جمع کرانے کی ہدایت دی گئی ہے۔

مزیدخبریں