غزہ امن معاہدے کے تحت اسرائیلی یرغمالیوں کے بدلے 2,000 فلسطینی قیدیوں کی رہائی کی تیاریاں مکمل

10:12 AM, 13 Oct, 2025

غزہ: غزہ امن معاہدے کے تحت آج 20 اسرائیلی یرغمالیوں کے بدلے تقریباً 2,000 فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا جائے گا۔ عرب میڈیا کے مطابق حماس اور اسرائیل کے درمیان ہونے والے اس تاریخی تبادلے کے لیے ریڈ کراس کی گاڑیاں غزہ کے علاقے دیرالبلاح پہنچ چکی ہیں، جبکہ فلسطینی قیدی اسرائیلی جیلوں سے بسوں میں سوار ہو کر رہائی کے مقام کی جانب روانہ ہو رہے ہیں۔

غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق، حماس کے مسلح ونگ القسام بریگیڈ نے 20 زندہ اسرائیلی یرغمالیوں کی فہرست جاری کی ہے، اور خان یونس میں ان کی رہائی کے انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ اس موقع پر عوام کی بڑی تعداد رہائی کے مقام کے قریب جمع ہو چکی ہے اور ان کی واپسی کے منظر کو دیکھنے کے لیے جوش و خروش پایا جا رہا ہے۔

معاہدے کے تحت 20 اسرائیلی یرغمالیوں کے بدلے تقریباً 2,000 فلسطینی قیدیوں کی رہائی کی جائے گی۔ ان قیدیوں میں وہ فلسطینی شامل ہیں جنہیں اسرائیل نے عمر قید کی سزا دی تھی، جبکہ جنگ کے دوران گرفتار کیے گئے 1,700 سے زائد فلسطینی جن پر کوئی الزام عائد نہیں کیا گیا تھا، ان کی رہائی بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ، دو درجن سے زائد بچے بھی رہائی پانے والوں میں شامل ہیں۔

دوسری جانب، امدادی سامان سے بھرے ٹرک غزہ میں داخل ہو رہے ہیں، اور ان فلسطینیوں کی واپسی کا عمل بھی جاری ہے جو جنوبی غزہ میں اسرائیلی کارروائی کے باعث بے دخل کیے گئے تھے۔ تاہم، جب وہ شمالی غزہ واپس پہنچتے ہیں تو انہیں وہاں تباہی کے مناظر دیکھنے کو مل رہے ہیں کیونکہ غزہ شہر ملبے کے ڈھیر میں بدل چکا ہے۔

آج مصر کے شہر شرم الشیخ میں غزہ امن معاہدے پر دستخط کی باقاعدہ تقریب منعقد کی جائے گی، جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف بھی شریک ہوں گے۔ اس معاہدے کو عالمی سطح پر ایک اہم پیشرفت اور غزہ میں امن کے قیام کی جانب ایک بڑا قدم سمجھا جا رہا ہے۔

پاکستان نے اس معاہدے کو فلسطینیوں کے حقوق کی حمایت اور غزہ میں جاری بحران کے خاتمے کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا ہے، اور اس بات کی امید ظاہر کی ہے کہ اس معاہدے کے ذریعے خطے میں پائیدار امن کی راہ ہموار ہو گی۔

مزیدخبریں