خیبر پختونخوا اسمبلی میں نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب کا اجلاس، اپوزیشن کا واک آؤٹ

11:22 AM, 13 Oct, 2025

پشاور: خیبر پختونخوا اسمبلی میں نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب کے لیے اجلاس کا آغاز ہوگیا، تاہم اپوزیشن جماعتوں کے اراکین نے احتجاجاً واک آؤٹ کر دیا۔ اجلاس سپیکر بابر سلیم سواتی کی زیر صدارت جاری ہے۔

نئے وزیراعلیٰ کے لیے پی ٹی آئی کے سہیل آفریدی سمیت 4 امیدوار میدان میں ہیں، اور تمام امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور ہو چکے ہیں۔ ان امیدواروں میں جے یو آئی کے مولانا لطف الرحمان، پیپلز پارٹی کے ارباب زرک، اور ن لیگ کے سردار شاہ جہان شامل ہیں۔ اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباد اللہ وزیراعلیٰ کی دوڑ سے باہر ہو گئے ہیں کیونکہ اپوزیشن جماعتوں میں کسی ایک امیدوار پر اتفاق نہیں ہو سکا۔ اس دوران پی ٹی آئی اپنے امیدوار کو بلا مقابلہ منتخب کرانے کے لیے متحرک ہو گئی ہے اور ن لیگ و اے این پی سے بھی تعاون کی درخواست کی ہے۔

خیبر پختونخوا اسمبلی کے ارکان کی کل تعداد 145 ہے، اور وزیراعلیٰ منتخب ہونے کے لیے 73 ووٹ کی ضرورت ہے۔ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں کی تعداد 92 ہے جبکہ اپوزیشن کے اراکین کی تعداد 53 ہے۔

علی امین گنڈا پور نے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی کو پیشگی مبارکباد دی اور کہا کہ پاکستان میں قانون کی بالادستی چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کے طور پر جو اقدامات کیے وہ ریکارڈ پر ہیں اور حکومت تب کامیاب ہوتی ہے جب وہ مضبوط ہو۔

علی امین گنڈا پور نے اپوزیشن کو فنڈز نہ دینے کے الزام کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپوزیشن کے حلقوں کو فنڈز دیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے ہمیشہ پاکستان کے لیے اپنی ذات کو پیچھے رکھا اور آج بھی قربانی دے رہے ہیں۔

اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباد اللہ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ علی امین گنڈا پور کا استعفیٰ تاحال منظور نہیں ہوا، اور ایک وزیراعلیٰ کے ہوتے ہوئے دوسرے وزیراعلیٰ کا انتخاب غیر قانونی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گورنر نے علی امین گنڈا پور کو بلایا ہے تاکہ ابہام دور ہو سکے، اور اپوزیشن اس غیر قانونی عمل کا حصہ نہیں بنے گی۔

مزیدخبریں