اسلام آباد : پاکستان میں تعینات برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے مشرقِ وسطیٰ میں امن کے قیام اور متحارب فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے پاکستان کے کلیدی کردار کی بھرپور تعریف کی ہے۔
واضح رہے کہ برطانوی پارلیمنٹ کے رکن رائٹ آنریبل محمد افضل ایم پی نے مشرقِ وسطیٰ میں امن کے قیام کے لیے پاکستان کی حالیہ سفارتی کوششوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ ہاؤس آف کامنز میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کو خطے میں استحکام لانے والا ایک کلیدی ملک قرار دیا۔ پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اس کلپ کو ٹویٹ کیا اوراس کو برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے ناصرف ری ٹویٹ کیا بلکہ برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے برطانوی وزیراعظم کے موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ ان تمام کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے جو پاکستان نے فریقین کو قریب لانے اور جنگ بندی کے حالات سازگار بنانے کے لیے کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی یہ کاوشیں خطے میں پائیدار امن کی بنیاد رکھنے میں مددگار ثابت ہو رہی ہیں۔
برطانوی ہائی کمشنر نے خاص طور پر پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا شکریہ ادا کیا اور ان کی سفارتی بصیرت کو سراہا۔ انہوں نے اپنے پیغام کے آخر میں اردو میں "بہت شکریہ" لکھ کر پاکستان کے لیے اپنی نیک خواہشات کا اظہار کیا، جو دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے سفارتی تعاون اور دوستانہ تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔
واضح رہے کہ محمد افضل نے برطانوی وزیراعظم سے سوال کیا کہ حکومتِ برطانیہ مشرقِ وسطیٰ میں دیرپا اور پائیدار امن کو یقینی بنانے کے لیے پاکستانی حکومت کی ان مخلصانہ کوششوں میں کس طرح تعاون اور مدد فراہم کر رہی ہے؟۔انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کی ان کوششوں کو بین الاقوامی سطح پر برطانیہ جیسی عالمی طاقتوں کی بھرپور حمایت حاصل ہونی چاہیے تاکہ خطے کو مزید کشیدگی سے بچایا جا سکے۔
برطانوی پارلیمنٹ میں پاکستان کے حق میں اس بیان کو سفارتی حلقوں میں انتہائی اہمیت دی جا رہی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ پاکستان کی "ثالثی سفارت کاری" کی بڑی کامیابی ہے کہ اب مغربی ممالک کے منتخب نمائندے بھی پاکستان کے اس مثبت کردار کی توثیق کر رہے ہیں۔
سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ برطانوی ہائی کمشنر کا یہ بیان اسحاق ڈار اور موجودہ پاکستانی قیادت کی "ثالثی سفارت کاری" کی بڑی کامیابی ہے۔ برطانیہ کی جانب سے اس سطح پر اعترافِ خدمات پاکستان کے بین الاقوامی وقار میں اضافے کا باعث ہے۔