خطے میں امن کی بحالی: پاکستان کی امریکا اور ایران کے درمیان 'دوسرے دور' کے مذاکرات کی تجویز

10:54 AM, 14 Apr, 2026

اسلام آباد: خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور مستقل امن کے قیام کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔ پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور منعقد کرنے کی باضابطہ تجویز پیش کرتے ہوئے دوبارہ میزبانی کی پیشکش بھی کر دی ہے۔حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے دونوں فریقین پر زور دیا ہے کہ جنگ بندی کی مدت ختم ہونے سے پہلے مذاکرات کی میز پر واپس آیا جائے۔ پاکستان کے اس سفارتی اقدام کے اہم نکات درج ذیل ہیں۔
 مذاکرات کے مقام کا فیصلہ امریکا اور ایران کی باہمی رضامندی سے طے کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔پاکستان کا موقف ہے کہ یہ مذاکرات کوئی ہنگامی یا وقتی کوشش نہیں بلکہ ایک طویل المدتی اور مسلسل عمل ہے جسے منطقی انجام تک پہنچانا ضروری ہے۔ پاکستان خطے میں ایک ذمہ دار ثالث کے طور پر اپنی خدمات پیش کر رہا ہے تاکہ کسی بھی بڑے تصادم کا راستہ روکا جا سکے۔
واضح رہے کہ مذاکرات کے پہلے دور کے اختتام پر تاحال کسی حتمی معاہدے پر اتفاق نہیں ہو سکا تھا۔ اسی خلا کو پُر کرنے کے لیے پاکستان نے دوسرے دور کی تجویز دی ہے تاکہ تعطل کو ختم کیا جا سکے۔
سفارتی ماہرین پاکستان کی اس کوشش کو عالمی سطح پر امن کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں، جس کا مقصد تہران اور واشنگٹن کو ایک ایسے حل کی طرف لانا ہے جو سب کے لیے قابلِ قبول ہو۔

مزیدخبریں