مفاہمتی یادداشت کو اصل روح کے مطابق عملی جامہ پہنایا جائے: اسحاق ڈار

06:38 PM, 14 Aug, 2026

اسلام آباد: نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر اس کے اصل مقصد اور طے شدہ متن کے مطابق مؤثر عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

اپنے بیان میں اسحاق ڈار نے کہا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو اس کی روح اور اصل نکات کے مطابق عملی شکل دینا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ زیر التوا معاملات کو حل کرنے کے لیے بات چیت اور سفارتی ذرائع ہی آگے بڑھنے کا مؤثر راستہ ہیں۔

نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ عالمی سطح پر امن، مذاکرات، باہمی تعاون اور ایک دوسرے کے احترام کی پالیسی کی حمایت کرتا آیا ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ سال پیش آنے والے واقعات نے ایک مرتبہ پھر اس امر کی اہمیت واضح کردی ہے کہ دیرینہ تنازعات کو طاقت کے بجائے پُرامن ذرائع سے حل کرنے کی فوری ضرورت ہے۔

اسحاق ڈار نے بالخصوص جموں و کشمیر کے مسئلے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ تنازع خطے میں کشیدگی اور عدم استحکام کی بڑی وجوہات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کی جائز جدوجہد کی اصولی، اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت بدستور جاری رکھے گا۔

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے ملک کے دفاع اور سلامتی کے لیے خدمات انجام دینے والے افراد کو خراجِ تحسین بھی پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے خلاف اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک موجود خطرات کا مقابلہ کرنے والے افراد اور ادارے قوم کے لیے باعثِ فخر ہیں، جبکہ پوری قوم ان کی خدمات اور قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ ملک کو مضبوط بنانے کے لیے قومی اداروں کو مزید مستحکم کرنا، اتحاد و یکجہتی کو برقرار رکھنا اور عوام کی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

انہوں نے قوم پر زور دیا کہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک مستحکم، خوشحال، محفوظ اور پُرامن پاکستان کی بنیاد رکھنے کے لیے اجتماعی کوششوں کو مزید آگے بڑھایا جائے۔

نائب وزیراعظم نے کہا کہ قومی ترقی اور خوشحالی کے اہداف کے حصول کے لیے تمام طبقات کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنا ہوں گی اور باہمی اتحاد و تعاون کے ذریعے ملک کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کی تجدید کرنا ہوگی۔

مزیدخبریں