کراچی: سندھ اسمبلی کے باہر میدانِ جنگ، پولیس اور جماعت اسلامی کے کارکنوں میں شدید تصادم

07:51 PM, 14 Feb, 2026

کراچی : سندھ اسمبلی کے قریب جماعت اسلامی کے احتجاجی مارچ کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئی ہیں، جس کے نتیجے میں علاقہ میدانِ جنگ بن گیا اور متعدد افراد زخمی ہو گئے۔جماعت اسلامی کی جانب سے دیے گئے احتجاجی کال پر جب کارکنوں نے سندھ اسمبلی کی جانب پیش قدمی شروع کی، تو پہلے سے تعینات پولیس کی بھاری نفری نے انہیں ریڈ زون میں داخل ہونے سے روک دیا۔ مظاہرین کی جانب سے رکاوٹیں توڑنے کی کوشش پر پولیس نے آنسو گیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج کا آغاز کیا۔
 مظاہرین کی جانب سے پولیس پر شدید پتھراؤ کیا گیا، جس کے باعث کئی پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ جواب میں پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے درجنوں آنسو گیس کے شیل فائر کیے۔ پولیس نے احتجاج میں استعمال ہونے والا ساؤنڈ سسٹم اور ٹرک بھی اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔اس وقت سندھ اسمبلی اور اطراف کی سڑکیں ٹریفک کے لیے مکمل طور پر بند ہیں، جس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ علاقے میں تاحال کشیدگی برقرار ہے اور پولیس کی مزید نفری طلب کر لی گئی ہے۔
 جماعت اسلامی کے قائدین نے پولیس تشدد کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے جمہوری حق کو دبانے کی کوشش قرار دیا ہے، جبکہ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ریڈ زون میں دفعہ 144 کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

مزیدخبریں