خیبر پختونخوا: قومی پیغامِ امن کمیٹی کی پریس کانفرنس، دہشت گردی کے خلاف متفقہ دینی مؤقف کا اعلان،جمعہ کو ملک بھر میں یومِ پیغامِ پاکستان منایا جائے گا

07:32 PM, 14 Jan, 2026

پشاور: گورنر ہاؤس خیبر پختونخوا میں قومی پیغامِ امن کمیٹی نے پریس کانفرنس کا انعقاد کیا، جس میں صوبے کو دہشت گردی کے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقے کے طور پر اولین ترجیح دینے کا اعلان کیا گیا۔ کمیٹی کے مطابق خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر یہاں امن اور قومی ہم آہنگی کے فروغ کو ترجیح دی گئی ہے۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حافظ طاہر اشرفی نے کہا کہ  پیغامِ پاکستان آئین کے بعد سب سے مضبوط قومی اتفاقِ رائے ہے" اور اس میں ملک کے تمام مکاتبِ فکر کے علماء کا اتفاق شامل ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ دہشت گردی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں اور کسی بھی بے گناہ شہری کے قتل کو ہر حال میں حرام قرار دیا گیا ہے۔

کمیٹی نے اعلان کیا کہ اس جمعہ کو ملک بھر میں یومِ پیغامِ پاکستان منایا جائے گا تاکہ قوم میں امن، محبت اور ہم آہنگی کا پیغام عام ہو۔ دینی قیادت نے ریاست اور افواجِ پاکستان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا اور کہا کہ افواجِ پاکستان اسلام اور امن کے محافظ ہیں، جن کی حمایت ہر مسلمان پر دینی فریضہ ہے۔

مفتی عبد الرحیم نے خطاب میں کہا کہ دشمنوں کی حمایت خوارج سے بھی بدتر عمل ہے اور خوارج کے خلاف جدوجہد کو حق اور درست قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے فتنے کے خلاف جدوجہد کو جہادِ اکبر قرار دیتے ہوئے قوم سے امن کے قیام میں بھرپور کردار ادا کرنے کی اپیل کی۔

کمیٹی نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے زیادہ تر واقعات سرحد پار سے منسلک ہیں، اس لیے افغانستان سے امن کے قیام کے اقدامات بھی ضروری ہیں۔ جہاں بھی امن قائم کرنے کی ضرورت ہو، قومی پیغامِ امن کمیٹی اپنے دورے کرے گی اور عوامی شعور اجاگر کرے گی۔

آخر میں دینی قیادت نے زور دیا کہ اسلام امن، محبت اور بھائی چارے کا دین ہے، اور ملک میں ہر قسم کے فرقہ وارانہ یا عسکری فسادات کا قاطعاً مقابلہ کیا جائے گا۔

مزیدخبریں