بلوچستان پر تحقیق یا سازش؟ واشنگٹن میں قائم تھنک ٹینک MEMRI کا نیا منصوبہ

09:35 AM, 14 Jun, 2025

اسلام آباد :واشنگٹن میں قائم تھنک ٹینک Middle East Media Research Institute (MEMRI) نے 12 جون 2025 کو "بلوچستان سٹڈیز پروجیکٹ" کا آغاز کیا ہے اور اس میں میر یار بلوچ کو بطور سپیشل ایڈوائزر تعینات کیا ہے۔ میر یار بلوچ کو پاکستان مخالف بیانات اور بھارت نواز موقف کے حوالے سے جانا جاتا ہے، جس پر پاکستان میں شدید تنقید ہو رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ میر یار بلوچ ایک فرضی اور مصنوعی شناخت ہے، جسے ممکنہ طور پر بھارتی خفیہ ایجنسی را (RAW) کی سرپرستی حاصل ہے۔ اس شناخت کا مقصد بلوچستان کے حقیقی مسائل کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا اور پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا پھیلانا ہے۔ اس عمل کو جدید دور کی ہائبرڈ وارفیئر کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے، جس میں اطلاعات اور جعلی بیانیے کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
MEMRI کو عموماً ایک تحقیقی ادارہ سمجھا جاتا ہے، مگر اس کے بانی سابق اسرائیلی انٹیلیجنس اہلکار ہیں اور یہ ادارہ مسلم دنیا کے خلاف یکطرفہ اور جانبدارانہ رپورٹس کی تیاری میں ملوث رہا ہے۔ بلوچستان اسٹڈیز پروجیکٹ کو بھی اس تناظر میں دیکھا جا رہا ہے کہ یہ حقیقی تحقیق کے بجائے پاکستان کے خلاف سازشی منصوبہ بندی کا حصہ ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ پاکستان کے اندر لسانی اور علاقائی تقسیم کو ہوا دینے اور ملک کو کمزور کرنے کی سازش ہے۔ میر یار بلوچ اور اس جیسے دیگر جعلی بیانیے پاکستانی قوم کی یکجہتی کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہیں، جن کا مقصد خطے میں کشیدگی بڑھانا ہے۔
بلوچستان کے عوام ملک کے ایک اہم حصے کے طور پر ترقی، امن اور خوشحالی کے خواہاں ہیں۔ حکومت اور مقامی رہنما مسائل کے حل کے لیے بات چیت اور ترقیاتی کاموں پر توجہ دے رہے ہیں۔ ایسے جعلی بیانیے بلوچ عوام کی امن پسند فطرت کے منافی ہیں اور انہیں نقصان پہنچانے کے مترادف ہیں۔
یہ منصوبہ اور اس کے حمایتی پاکستان کے خلاف پانچویں نسل کی جنگ کا حصہ ہیں، جو سرحدوں کے بجائے سماجی اور معلوماتی میدان میں لڑی جا رہی ہے۔ پاکستانی عوام خصوصاً بلوچ بھائیوں اور بہنوں سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ ان جعلی کرداروں اور ان کے پیچھے کارفرما سازشوں کو پہچانیں اور قومی اتحاد کو مضبوط بنائیں۔

مزیدخبریں