اسلام آباد / کابل: عالمی سطح پر معتبر مانے جانے والے جریدے "دی ڈپلومیٹ" نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں افغان طالبان کی حقیقت کو بے نقاب کرتے ہوئے انہیں دنیا میں "دہشت گردوں کا سرپرستِ اعلیٰ" قرار دے دیا ہے۔ رپورٹ میں افغان طالبان رجیم اور علاقائی و عالمی عسکریت پسند تنظیموں کے مابین خطرناک گٹھ جوڑ اور اتحاد کو پوری تفصیل کے ساتھ دنیا کے سامنے لایا گیا ہے۔
"دی ڈپلومیٹ" نے اپنی رپورٹ میں بین الاقوامی برادری کے سرد رویے پر سخت سوال اٹھایا ہے کہ "عالمی برادری کو خطرے کی حقیقی شدت کو تسلیم کرنے کے لیے طالبان کی مزید کتنی دہشت گردی، حملوں اور پشت پناہی کی ضرورت ہے؟۔رپورٹ کے مطابق، دنیا کے بڑے ممالک کی مصلحت پسندی اور خاموشی افغانستان کو ایک بار پھر عالمی سکیورٹی کے لیے ایک بم بنانے میں مدد دے رہی ہے۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دنیا اور خطے کے بعض ممالک کے افغان طالبان کے ساتھ عبوری یا سفارتی تعلقات ضرور قائم ہیں، لیکن ان ممالک کے سکیورٹی ادارے شدید تشویش اور خوف کا شکار ہیں۔
چین، روس اور وسطی ایشیائی ممالک (جیسے تاجکستان اور ازبکستان) بظاہر طالبان سے رابطے میں ہیں، لیکن ان کے دفاعی ادارے افغان سرزمیں سے اپنی حدود میں عسکریت پسندی پھیلنے کے خدشات پر الرٹ ہیں۔
طالبان رجیم دہشت گردوں کی سرپرست اعلیٰ: عالمی جریدے ’دی ڈپلومیٹ‘ نے افغان حکومت اور عسکریت پسندوں کا گٹھ جوڑ بے نقاب کر دیا
01:26 PM, 14 Jun, 2026