اسلام آباد: وزارتِ اطلاعات و نشریات (MOIB) نے افغان طالبان کی جانب سے پاکستانی سرحدی چوکیوں پر قبضے اور جانی و مالی نقصان کے دعوئوں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے انہیں 'جھوٹ کا پلندہ' قرار دے دیا ہے۔
وزارتِ اطلاعات کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ افغان طالبان کی نام نہاد وزارتِ دفاع کے دعوے حقیقت سے عاری اور محض افغان داخلی رائے عامہ کو گمراہ کرنے کے لیے گھڑے گئے ہیں۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ یہ بیانیہ ان عناصر کی ایما پر پھیلایا جا رہا ہے جو دہشت گردی کے اسپانسرز کے زیراثر ہیں اور پاکستان کے خلاف پراکسی وار کا حصہ ہیں۔
حکومتی اعلامیے کے مطابق، "ماسٹر پراکسی" افغان طالبان اور ان کی توسیع 'فتنہ الخوارج' کے ذریعے پہنچنے والے نقصانات کی تفصیلات وزارتِ اطلاعات باقاعدگی سے اپ ڈیٹ کر رہی ہے۔ بیان میں انکشاف کیا گیا کہ دہشت گردوں اور بھارتی میڈیا و سوشل میڈیا نیٹ ورکس کے درمیان ایک منظم گٹھ جوڑ موجود ہے جو ان فضول دعوؤں کو وسعت دیتا ہے، تاہم حقیقت کی جانچ پڑتال (Fact Check) پر یہ تمام دعوے ہمیشہ منہ کے بل گرتے ہیں۔
وزارتِ اطلاعات نے مزید کہا کہ پاکستان اپنی حدود میں دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے انفراسٹرکچر کے خلاف انتہائی احتیاط اور معتبر معلومات کی بنیاد پر ٹارگٹڈ آپریشنز جاری رکھے ہوئے ہے۔ جھوٹے پروپیگنڈے کے برعکس، پاکستان ان آپریشنز کے ویڈیو اور تصویری شواہد باقاعدگی سے میڈیا کے ساتھ شیئر کر رہا ہے۔
بیان کے آخر میں یہ اعادہ کیا گیا کہ سرحد پار سے کیے جانے والے ان مبالغہ آرائی پر مبنی دعووں کا کوئی معتبر اور قابلِ تصدیق ثبوت موجود نہیں ہے اور پاکستان اپنی علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔