بیجنگ :چین اور امریکا کے درمیان بیجنگ میں اعلیٰ سطح کے مذاکرات کا آغاز ہو گیا ہے، جس میں چینی صدر شی جن پنگ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے اپنے وفود کے ہمراہ شرکت کی۔ اس موقع پر چینی صدر نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ دنیا کی ان دو بڑی طاقتوں کو ایک دوسرے کا حریف بننے کے بجائے شراکت دار بننا ہوگا۔
مذاکرات کے دوران صدر شی جن پنگ نے امریکی صدر کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ بیجنگ میں صدر ٹرمپ سے مل کر انہیں بے حد خوشی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین اور امریکا کے درمیان مشترکہ مفادات، باہمی اختلافات سے کہیں زیادہ ہیں، اور دونوں ملکوں کے تعلقات میں استحکام پوری دنیا کے حق میں ہے۔ عالمی امن کو برقرار رکھنا اور معاشی ترقی کی رفتار کو تیز کرنا دونوں ممالک کی تاریخی ذمہ داری ہے۔
چینی صدر نے موجودہ نازک عالمی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت دنیا ایران تنازع اور عالمی سپلائی چین کے سنگین چیلنجز سے نبردآزما ہے، اور دنیا میں ایسی تبدیلیاں تیزی سے رونما ہو رہی ہیں جو ایک صدی میں نہیں دیکھی گئیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت پوری دنیا کی نظریں بیجنگ میں ہونے والے ان مذاکرات پر ٹکی ہوئی ہیں، اس لیے اختلافات کے باوجود دونوں ممالک کو باہمی احترام اور پرامن بقائے باہمی کے اصولوں پر کاربند رہنا ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ تمام عالمی بحرانوں کا پائیدار حل صرف اور صرف سفارت کاری اور مذاکرات میں ہی ممکن ہے۔
عالمی امن کی تاریخی ذمہ داری: بیجنگ میں صدر شی جن پنگ اور صدر ٹرمپ کے درمیان وفود کی سطح پر اہم مذاکرات
09:45 AM, 14 May, 2026