سینیٹ میں پاکستان آرمی، نیوی اور ایئر فورس ترمیمی بل 2025 کثرت رائے سے منظور

11:31 AM, 14 Nov, 2025

اسلام آباد: سینیٹ (ایوان بالا) نے پاکستان آرمی، نیوی اور ایئر فورس ترمیمی بل 2025 کو کثرت رائے سے منظور کر لیا۔ چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے آرمی ایکٹ ترمیمی بل پیش کیا، جسے ایوان نے منظور کر لیا۔ اس بل کی منظوری کے بعد، جے یو آئی (ف) کے رکن کامران مرتضیٰ اور پی ٹی آئی کے رکن ہمایوں مہمند نے اسے کمیٹی میں بھیجنے کا مطالبہ کیا، لیکن ایوان نے اس کی مخالفت کی۔

اس بل کے پیش ہونے کے دوران ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ 27 ویں آئینی ترمیم کے بعد یہ قوانین میں تبدیلی کی ضرورت تھی تاکہ ملکی دفاعی نظام کو مضبوط بنایا جا سکے۔

اس کے ساتھ ہی پاکستان ایئر فورس ایکٹ ترمیمی بل 2025 کو بھی کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا۔ اس ترمیم میں پاکستان ایئر فورس ایکٹ 1953 کے کچھ اہم حصے حذف کر دیے گئے، جن میں سیکشن 10 ڈی، 10 ای اور 10 ایف شامل ہیں۔ مزید یہ کہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے الفاظ کو سیکشن 202 سے حذف کر دیا گیا ہے۔

پاکستان نیوی ایکٹ ترمیمی بل 2025 کو وزیر دفاع خواجہ آصف نے پیش کیا۔ اس دوران سینیٹر دنیش کمار نے اعتراض اٹھایا کہ وہ جو سوالات پوچھتے ہیں، ان کے جوابات مکمل طور پر نہیں دیے جاتے، اور کہا کہ تفصیلات چھپائی جاتی ہیں۔ انہوں نے وزارت خزانہ کے ایس او ایز کے افسران کی مراعات کے بارے میں سوال کیا، جس کا جواب وزیر مملکت خزانہ بلال کیانی نے دیا اور کہا کہ تمام سوالات کے جوابات دیے جائیں گے، اور کمیٹی میں تفصیلات بھی فراہم کی جائیں گی۔

27 نومبر سے شروع ہونے والی آرمی ایکٹ کی نئی ترامیم کے تحت، آرمی چیف کا نیا نوٹیفکیشن بطور چیف آف ڈیفنس فورسز جاری ہوگا، جس کے بعد ان کی مدت دوبارہ سے شروع ہو جائے گی۔ اس کے علاوہ آرمی چیف پاک فوج کی ری اسٹرکچرنگ اور انضمام کے ذمہ دار ہوں گے، اور وزیراعظم آرمی چیف کی سفارش پر نیشنل سٹریٹیجک کمانڈ کے کمانڈر کی تعیناتی کریں گے۔

آرمی ایکٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ کمانڈر نیشنل سٹریٹیجک کمانڈ کی مدت ملازمت 3 سال ہوگی، اور اس کے بعد کمانڈر کو دوبارہ 3 سال کے لیے تعینات کیا جا سکے گا۔ ان تمام تبدیلیوں کے ذریعے ملکی دفاعی نظام کو مزید مستحکم بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ 27 نومبر سے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ بھی ختم کر دیا جائے گا۔

مزیدخبریں