اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس خودکش حملے میں ملوث ٹی ٹی پی کے دہشتگرد سیل کے 4 ارکان گرفتار

12:38 PM, 14 Nov, 2025

اسلام آباد: جوڈیشل کمپلیکس جی۔11 اسلام آباد پر ہونے والے خودکش حملے میں ملوث ٹی ٹی پی (تحریک طالبان پاکستان) کے دہشتگرد سیل کے 4 ارکان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ یہ کارروائی انٹیلی جنس بیورو ڈویژن اور سی ٹی ڈی (کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ) کی مشترکہ کوششوں کے نتیجے میں انجام پائی۔

دوران تفتیش، گرفتار دہشتگرد ساجد اللہ عرف شینا نے اعتراف کیا کہ وہ خودکش حملہ آور کا ہینڈلر تھا اور اس نے ٹی ٹی پی کے کمانڈر سعید الرحمن عرف داداللہ کے احکامات پر عمل کیا۔ ساجد اللہ کے مطابق، داداللہ نے اسے ٹیلی گرام ایپلیکیشن کے ذریعے اسلام آباد میں خودکش حملہ کرانے کا حکم دیا تاکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچایا جا سکے۔

ساجد اللہ نے مزید بتایا کہ داداللہ نے خودکش بمبار عثمان عرف "قاری" کی تصاویر بھیج کر اس کو اسلام آباد پہنچانے کا حکم دیا۔ خودکش بمبار عثمان کا تعلق شنواری قبیلے سے تھا اور وہ افغانستان کے علاقے اچین، ننگرہار کا رہائشی تھا۔ جب عثمان افغانستان سے پاکستان پہنچا، ساجد اللہ نے اسے اسلام آباد کے نواحی علاقے میں ٹھہرایا۔

گرفتار دہشتگرد ساجد اللہ عرف "شینا" نے تفتیش کے دوران بتایا کہ افغانستان میں موجود ٹی ٹی پی کے کمانڈر داداللہ کی ہدایت پر، اس نے پشاور کے اکھن بابا قبرستان سے خودکش جیکٹ حاصل کی اور اسے اسلام آباد پہنچایا۔ دھماکے کے روز ساجد اللہ نے خودکش بمبار عثمان کو خودکش جیکٹ پہنائی اور پھر حملہ کیا۔

تفتیش میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ٹی ٹی پی / فتنہ الخوارج کی افغانستان میں موجود اعلیٰ قیادت نے ہر قدم پر اس دہشتگرد نیٹ ورک کی رہنمائی کی۔ اس آپریشن میں ملوث تمام 4 دہشتگرد گرفتار ہو چکے ہیں، اور مزید تحقیقات جاری ہیں، جس میں مزید انکشافات اور گرفتاریوں کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

مزیدخبریں