پرندہ مارکیٹ کی مسماری ،واقعات کو روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات کی ضرورت

08:13 PM, 14 Nov, 2025

تحریر:وجیہہ تمثیل مرزا 

’’حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایاایک عورت کو ایک بلی کی وجہ سے عذاب دیا گیا اس نے اُس بلی کو (کسی جگہ) بند کر دیا تھا یہاں تک کہ وہ بھوکی مر گئی۔ وہ عورت اس کی وجہ سے دوزخ میں داخل کی گئی۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (اللہ تعالیٰ اُس سے فرمائے گا:) اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ جب تو نے اُسے باندھا تو تو نے نہ اُسے کھلایا نہ پلایا اور نہ ہی اُسے کھلا چھوڑا کہ وہ (خود) زمین کے کیڑے مکوڑے کھا لیا کرتی۔‘‘ 
گزشتہ ہفتے لاہور میں اندرون شہر میں پرندوں  کی  مارکیٹ میں ایک آپریشن ہوا ، ان معصوم جانوں کا حساب کون لے گا ؟ ۔کیا ایک لمحے کو بھی مارکیٹ مسمار کرنے سے پہلے معصوم پرندوں کو منتقل کرنے کا خیال نہیں آیا ؟ اس واقعے پر عوام شدید غم و غصے کا شکار ہے اور ہونا بھی چاہیے۔ 
لاہور ہائیکورٹ نے محکمہ جنگلی حیات پنجاب کو حکم دیا ہے کہ وہ 30 دن کے اندر اندر شہر میں پالتو جانوروں کی مارکیٹ کو مسمار کرنے کی رپورٹ پیش کرے اور ایسے واقعات کو دوبارہ رونما ہونے سے روکنے کے لیے لائحہ عمل طے کرے۔
لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) کی جانب سے گزشتہ جمعہ کو داتا دربار کے قریب لاہور کے بھاٹی چوک میں واقع پرندوں کی مارکیٹ میں مسماری کی کارروائی کی گئی۔
جانوروں کے حقوق کے  ایک وکیل نے  لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی۔ عدالت نے محکمہ جنگلی حیات کو اس معاملے پر ایک "جامع رپورٹ" پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق   لاہور ہائیکورٹ  کے جج شہرام سرور نے محکمہ وائلڈ لائف کو درخواست کو "رسمی نمائندگی" کے طور پر ماننے اور 30 ​​دن کے اندر مسمار کرنے کے بارے میں عدالت کو ایک جامع رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ محکمے کو حکم دیا گیاہے  کہ وہ اپنی رپورٹ میں انہدام کی تفصیلات اور وجوہات، مستقبل میں ایسے واقعات نہ ہونے کو یقینی بنانے کے لیے ٹھوس روڈ میپ، ذمہ داروں کے خلاف فوجداری کارروائی، اور پنجاب حکومت اور اس کے محکموں کے اندر جانوروں کے تئیں "ہمدردی اور ذمہ داری" کو فروغ دینے کے لیے تربیت اور حساسیت کے پروگرام کا حکم دیا گیا۔رپورٹ کے مطابق  اگر محکمہ وائلڈ لائف نے 30 دن کی ڈیڈ لائن کے اندر رپورٹ نہیں کی تو انہیں " توہین عدالت کی کارروائی کے تحت واپس لایا جائے گا ۔
یہ ایک ایسا سانحہ ہے، اس سے سب کو سبق حاصل کرنے کی ضرورت ہے ،کیونکہ یہ معاملہ انتہائی حساس اور توجہ طلب ہے۔اس واقعے کی وجہ سے بہت سے زبان والے حساس لوگوں کا بھی دل دہل گیا ہے لیکن جنہوں نے آپریشن کیاان کی کیفیت تو ناقابل بیان ہی ہے۔

نوٹ: یہ کالم نگار/بلاگر کی ذاتی رائے ہے ، اس بارے میں ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

وجیہہ تمثیل مرزا  پاکستان میں مقیم ایک ملٹی میڈیا صحافی ہیں جو حقائق پر مبنی خبریں فراہم کرتی ہیں۔ شعبہ صحافت میں گریجویشن کے بعد پاکستان بھر میں اردو اور انگریزی دونوں اخبارات میں بطور خبر نگار، نیوز رپورٹر، کالم نگار کی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ اس کے ساتھ رجسٹرڈ نیشنل/بین الاقوامی صحافتی کونسلز، فورمز، پریس کلب اور ایسوسی ایشنز کے لیے نامزد ہیں ۔ ڈیجیٹل اور پرنٹ میڈیا پر اپنی صحافتی ذمہ داریاں ادا کر رہی ہیں۔ ٹیم سرعام میں بطور صحافی اپنی خدمات انجام دے رہی ہیں اور الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان میں سماجی کارکن کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔

مزیدخبریں