تحریر: طارق وسیم
نئی دہلی اور اسلام آباد میں ہونے والے خود کش دھماکوں کے بعد پاکستان کے دور ےپر آئی سری لنکا کی ٹیم کے کچھ کھلاڑیوں نے وطن واپسی کا مطالبہ کیا۔ ان کرکٹرز نے اپنے بورڈ اور پاکستانی حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ موجودہ دورہ ادھورا چھوڑ کر واپس سری لنکا جانا چاہتے ہیں ۔ یہ خبریں سب سے پہلے بھارتی میڈیا پر نشر ہوئیں۔
جیسے ہی خبر پھیلی چیئر مین پی سی بی محسن نقوی حرکت میں آئے اور سری لنکن کھلاڑیوں سے ملاقات کی ،انہیں دورہ جاری رکھنے پر قائل کیا اور سٹیٹ گیسٹ سیکورٹی فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ۔ سری لنکن کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ سنتھ جے سوریا اور عظیم کھلاڑی کمارا سنگا کارا نے بھی، پاکستان کا دورہ ادھورا چھوڑ کر واپس جانے کی مخالفت کرتے ہوئے پاکستان کو کرکٹ کی دنیا کا سب سے بہترین میزبان قرار دے دیا ۔
سری لنکن صدر سے رابطہ کیا گیا اور انہوں نے دورہ جاری رکھنے کی تاکید کی ۔ یوں گودی میڈیا اور طالبان کے ساتھ ساتھ ،پاکستان میں موجود وہ طبقہ جو پاکستان مخالف ہر عمل پر زور زور سے چیختا ہے ،اپنا سا منہ لے کر رہ گئے لیکن یہ سب کچھ ہو ا کیسے؟ کیا کہانی اتنی ہی سادہ ہے یا کچھ اور کردار بھی اسک ا حصہ ہیں یہ جاننے کے لیے ماضی میں جانا پڑے گا ۔
یہ بات ہے 1970 کی دہائی کی جنوبی افریقہ کی ٹیسٹ رکنیت معطل تھی، اور سری لنکا ٹیسٹ سٹیٹس حاصل کرنے کا سب سے تگڑا امید وار تھا ،،تب انگلینڈ ،آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ جنوبی افریقہ کا ٹیسٹ سٹیٹس بحال کرانا چاہتے تھے، اور سرعی لنکا کو یہ سٹیٹس دینے کے حق میں نہیں تھے ،پاکستان اور بھارت سری لنکا کے ساتھ جبکہ ویسٹ انڈیز خاموش تھا ،پھر پاکستان نے ویسٹ انڈیز کو قائل کیا ، آئی سی سی نے ووٹنگ کرائی اور سری لنکا کو ٹیسٹ سٹیٹس ملا،۔
جس کے بعد اس نے اپناپہلا غیر ملکی دورہ پاکستان کا کیا ،1996 کے ورلڈ کپ کوارٹر فائنل میں پاکستان کو بھارت سے شکست ہوئی تو، سری لنکن کپتان ارجنا رانا ٹنگا نے پاکستان کی شکست کا بدلہ لینے کااعلان کیا اور بھارت کو سیمی فائنل میں شکست دی۔ لاہور میں فائنل ہوا ،ساری دنیا آسٹریلیا کو فیورٹ قرار دے رہی تھی لیکن پاکستانی سری لنکا کے ساتھ تھے۔ سری لنکا نے آسٹریلیا کو شکست دے کر عالمی چیمپئن بننے کا اعزازحاصل کیا ۔ اسی کی دہائی میں ہی پاکستان کرکٹ ٹیم سری لنکا کے دورے پر تھی ، کولمبو سٹیڈیم کے باہر تامل ٹائیگرز فائرنگ کر رہے تھے، پاکستانی ٹیم میچ کھیلتی رہی اور دورہ مکمل کر کے واپس آئی ۔ 2009 میں لاہور میں سری لنکن ٹیم پر فائرنگ کے بعد پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ بند ہوئی تو سری لنکا نے پاکستان کا سب سے زیادہ ساتھ دیا۔
پاکستان میں کرکٹ بحال ہوئی تو سری لنکا دورہ کرنے والی پہلی ٹیموں میں شامل تھی ۔ الغرض محبتوں کی یہ داستان بہت پرانی ہے ۔ میدان چھوڑ کر بھاگنے والے بھارتی اب اس سطح پر آ گئے ہیں کہ پاکستان میں کرکٹ نہ ہونے پر خوش ہیں ۔مہمان ٹیم کو سٹیٹ گیسٹ قرار دینا ہمارے ملک اور نفرت کا بیج بونے والوں کی شکست ہے۔ مہمانوں کو وہی عزت و احترام ملے گا جو ہمارا خاصہ ہے ۔ پاکستان میں کرکٹ ہوتی رہے گی، کھیلوں سے محبت کرنے والوں کا یہ خطہ دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دے گا۔
نوٹ: neonews.pkاوراس کی پالیسی کا کالم نگار/بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے
طارق وسیم پاکستان بالخصوص لاہور کی صحافت میں جانا پہچانا نام ہے دو دہائی قبل انگریزی جرنلزم سے کیریئر کا آغاز کرنے والے طارق وسیم نے براڈ کاسٹ جرنلزم میں بطور رپورٹر،اینکر اور نیوز ڈیپارٹمنٹ میں اپنی منفرد پہچان بنائی ہے