کسٹم اپیلٹ ٹربیونل کا گلگت بلتستان سے متعلق 85 درخواستوں پر فیصلہ: سزائیں اور جرمانے ختم، سامان دوبارہ چیک کرنے کا حکم

12:59 PM, 14 Oct, 2025

اسلام آباد: کسٹم اپیلٹ ٹربیونل نے گلگت بلتستان کے حوالے سے 85 درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے کسٹمز کے عائد کردہ سزائیں اور جرمانے ختم کر دیے ہیں۔ ٹربیونل نے حکام کو حکم دیا کہ ان درخواستوں سے متعلق سامان کا دوبارہ معائنہ کیا جائے اور منصفانہ تشخیص کے تحت کارروائی کی جائے۔

چیئرمین حافظ انصار الحق اور ممبر ٹیکنیکل عبدالوحید مروت پر مشتمل دو رکنی بینچ نے دو ہفتوں کے اندر ان 85 اپیلوں کی سماعت مکمل کی۔ اس دوران، کسٹمز حکام کو ہدایت دی گئی کہ سامان کا دوبارہ معائنہ درخواست گزار کے نمائندے کی موجودگی میں کیا جائے، اور اگر تمام قانونی شرائط پوری ہو جاتی ہیں تو سامان جاری کر دیا جائے گا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ موجودہ امپورٹ پالیسی کی خلاف ورزی کرنے والے سامان کو ضبط رکھا جائے گا، مگر اپیل کنندگان پر عائد تمام جرمانے اور سزائیں ختم کی جاتی ہیں۔ اپیل کنندگان پر الزام تھا کہ انہوں نے غلط بیانی کے ذریعے درآمدی سامان میں دھوکہ دہی کی تھی۔ یہ سامان گلگت بلتستان کی سوست ڈرائی پورٹ سے درآمد کیا گیا تھا، اور کسٹمز کے مطابق سامان کی تفصیل اور مقدار میں تضاد پایا گیا تھا، جس کی وجہ سے ڈیوٹی اور ٹیکس کی چوری کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

کسٹم اپیلٹ ٹربیونل نے اس فیصلے میں کہا کہ چونکہ سامان ابھی تک پورٹ پر موجود ہے اور ٹیکس چوری کی کوئی واضح دلیل نہیں ملی، اس لیے تمام کنسائنمنٹس کا 100 فیصد معائنہ کسٹمز کے زیر نگرانی ہوگا۔ فیصلے کے مطابق، سامان کی دوبارہ جانچ کے بعد اگر تمام قانونی تقاضے پورے ہوں تو ڈیوٹی و ٹیکس کی ادائیگی کے بعد سامان کو جاری کیا جا سکتا ہے۔

اس فیصلے کے ساتھ، کسٹم اپیلٹ ٹربیونل نے گزشتہ 14 مہینوں میں 1 کھرب 9 ارب روپے سے زائد مالیت کی درخواستوں کو نمٹا دیا ہے، اور ٹربیونل میں زیر سماعت درخواستوں کی مجموعی مالیت 13 ارب روپے سے زائد تھی۔

یہ فیصلہ کسٹمز حکام کی جانب سے کسی بھی غلط بیانی یا چوری کے الزامات کی تحقیقات میں شفافیت اور انصاف کے اصولوں کو فروغ دینے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

مزیدخبریں