موسمیاتی و زرعی ایمرجنسی نافذ، سیلاب متاثرین کی فوری بحالی حکومت کی ترجیح ہے: وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

02:19 PM, 14 Sep, 2025

کمالیہ: وفاقی وزیر خزانہ و سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ ملک میں حالیہ سیلاب اور موسمیاتی تبدیلیوں کے پیش نظر وفاقی حکومت نے موسمیاتی اور زرعی ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔ ایمرجنسی کے تحت جو بھی اقدامات درکار ہوں گے، حکومت بلا تاخیر کرے گی۔

کمالیہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ سیلاب کے باعث ہونے والے نقصانات کا تخمینہ لگانے کے لیے سروے جاری ہیں، جبکہ کسانوں کے نقصانات کے ازالے کے لیے ایک خصوصی کمیٹی بھی قائم کر دی گئی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ حکومت موجودہ صورتحال میں "حقائق پر مبنی فیصلے" کر رہی ہے اور ترجیح اس وقت متاثرہ عوام کی فوری امداد ہے۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے کابینہ کے ساتھ مشاورت کے بعد موسمیاتی و زرعی ایمرجنسی کا اعلان کیا، اور ہدایت کی کہ سیلاب متاثرین کی مکمل بحالی تک تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں۔

اُنہوں نے بتایا کہ پنجاب کے سیلاب متاثرہ اضلاع ٹوبہ ٹیک سنگھ، کمالیہ اور پیرمحل میں جانی نقصان کم رہا، جس کا کریڈٹ افواجِ پاکستان، ریسکیو اداروں اور ضلعی انتظامیہ کو جاتا ہے جنہوں نے بروقت اور مؤثر ریسکیو و ریلیف آپریشن کیا۔

وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ وزیراعظم نے ہدایت دی ہے کہ آئندہ سال کے مون سون سیزن سے قبل تیاری مکمل ہونی چاہیے، جبکہ اگلے 300 دنوں میں ایک جامع عملی منصوبہ بھی پیش کیا جائے گا۔

سیلاب متاثرین کے لیے بجلی بلوں میں ریلیف کا اعلان کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ اگست کے مہینے کے بجلی بل موخر کر دیے گئے ہیں، اور جن صارفین نے بل ادا کر دیے ہیں اُنہیں اگلے ماہ ایڈجسٹ کیا جائے گا۔

محمد اورنگزیب نے واضح کیا کہ حکومت اس نازک وقت میں مصنوعی مہنگائی کی اجازت نہیں دے گی، اور ایسے عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ اُنہوں نے کہا کہ بین الاقوامی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے ساتھ سیلاب متاثرین کی بحالی اور تعمیر نو پر بھی بات چیت کی جائے گی۔

آخر میں انہوں نے بتایا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی ہے، اور اس کے اثرات جلد ملک میں بھی نظر آئیں گے۔ بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ہو رہا ہے، اور صنعتکاروں و تاجروں کو سہولیات فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

مزیدخبریں