مکہ دفاعی معاہدہ پاکستان کی بڑی سٹریٹجک کامیابی قرار، علاقائی اثرورسوخ بڑھ گیا:امریکی ماہر

12:11 PM, 15 Aug, 2026

اسلام آباد: معروف امریکی خارجہ پالیسی ماہر ڈینیئل مارکی نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ہونے والے نئے دفاعی معاہدے کو اسلام آباد کے لیے اہم سٹریٹجک پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے پاکستان کی علاقائی عسکری اور سفارتی پوزیشن مزید مضبوط ہوسکتی ہے۔

ڈینیئل مارکی کے مطابق تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون میں اضافہ پاکستان کو خطے میں مزید اہم کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کرے گا، جبکہ سعودی عرب کی مالی و علاقائی قوت اور ترکیہ کی دفاعی ٹیکنالوجی و عسکری صلاحیتیں پاکستان کے لیے اضافی اسٹریٹجک فوائد کا باعث بن سکتی ہیں۔

7 اگست کو مکہ مکرمہ میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ پر دستخط کیے تھے۔ معاہدے کے تحت کسی ایک رکن پر مسلح حملے کو تینوں ممالک پر حملہ تصور کرنے کا اصول اپنایا گیا ہے، جبکہ دفاعی تعاون، مشترکہ فوجی مشقوں، انٹیلی جنس، جدید ٹیکنالوجی اور دفاعی صنعت میں تعاون بڑھانے کی بھی بات کی گئی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اس معاہدے سے پاکستان کو خطے میں اپنی دفاعی قوت اور دفاعی روک تھام (deterrence) مزید مضبوط بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔ نئی شراکت داری کو بھارت کی جانب سے پاکستان کو علاقائی سطح پر محدود کرنے کی کوششوں کے تناظر میں بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

تاہم پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے حکام نے واضح کیا ہے کہ معاہدہ کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں بلکہ بنیادی طور پر اجتماعی دفاع اور علاقائی سلامتی کے لیے ہے۔ معاہدے کے عملی اثرات کا انحصار مستقبل میں تینوں ممالک کے درمیان مشترکہ دفاعی منصوبہ بندی، فوجی تعاون اور اس کے نفاذ پر ہوگا۔

مزیدخبریں