افغانستان میں انسانی حقوق کی صورتحال تشویشناک، خواتین اور بچوں کو شدید مشکلات کا سامنا

07:10 PM, 15 Aug, 2026

کابل: افغانستان میں طالبان کے اقتدار کے پانچ سال مکمل ہونے کے دوران انسانی حقوق کی صورتحال پر عالمی سطح پر تشویش برقرار ہے۔ اقوام متحدہ مختلف رپورٹس کے ذریعے ملک میں بنیادی انسانی حقوق کی صورتحال اور عوام کو درپیش مشکلات کی نشاندہی کرتا رہا ہے۔

اقوام متحدہ کی خواتین سے متعلق ادارے کی تازہ رپورٹ کے مطابق طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد خواتین کے حوالے سے 100 سے زائد احکامات اور پابندیاں نافذ کی گئیں، جنہوں نے افغان خواتین کی زندگی کے مختلف شعبوں کو شدید متاثر کیا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خواتین اور بچیوں کی تعلیم اور ملازمت پر عائد پابندیوں کے باعث افغانستان کے تعلیمی اور طبی شعبوں کو مستقبل میں افرادی قوت کے بحران کا سامنا ہوسکتا ہے۔ اندازے کے مطابق 2030 تک ملک میں 25 ہزار سے زائد خواتین اساتذہ اور طبی کارکنوں کی کمی پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

دوسری جانب افغانستان میں خوراک کی صورتحال بھی مسلسل بگڑ رہی ہے۔ اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ خوراک کے مطابق طالبان حکومت کے دور میں پیدا ہونے والے انتظامی اور معاشی مسائل نے غذائی بحران کو مزید سنگین کردیا ہے۔

عالمی ادارہ خوراک کے اعداد و شمار کے مطابق افغانستان میں 37 لاکھ بچے جبکہ 12 لاکھ سے زیادہ حاملہ خواتین شدید غذائی قلت کا سامنا کررہی ہیں، جس سے ملک میں انسانی بحران کی سنگینی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق خواتین اور لڑکیوں کو تعلیم اور روزگار سے محروم رکھنے کے ساتھ ساتھ بنیادی سہولیات تک محدود رسائی نے افغانستان کے سماجی اور معاشی مسائل میں اضافہ کیا ہے۔ عالمی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ صورتحال برقرار رہنے کی صورت میں انسانی بحران مزید گہرا ہوسکتا ہے اور صحت، تعلیم اور دیگر بنیادی شعبوں پر اس کے منفی اثرات بڑھ سکتے ہیں۔

مزیدخبریں