پنجاب پولیس کا نیا چہرہ: 'تھانہ کلچر' کی تبدیلی کے لیے وزیراعلیٰ مریم نواز کا بڑا ایکشن

10:49 AM, 15 Feb, 2026

لاہور : وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبے میں پولیس اصلاحات کے لیے انقلابی اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے پولیس کے روایتی نظام کو جدید اور شفاف بنانے کے لیے تین ماہ کی ڈیڈ لائن مقرر کر دی ہے۔ ان اصلاحات کے تحت جہاں ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھایا جائے گا، وہی شہریوں کے احترام کو بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔اب ہر پولیس اہلکار تھانے آنے والے ہر شہری کو عزت و احترام سے "سر" کہہ کر مخاطب کرنے کا پابند ہوگا۔
تھانوں کے باہر پولیس کے رویے یا کسی بھی ہنگامی شکایت کے لیے 700 پینک بٹن لگائے جائیں گے، جس سے شکایات کا فوری ازالہ ممکن ہوگا۔وزیراعلیٰ نے پولیس اہلکاروں کی مانیٹرنگ کے لیے 14 ہزار باڈی کیمز کے فنڈز منظور کر لیے ہیں۔ یہ کیمرے اہلکاروں کی وردی پر نصب ہوں گے جو ان کی ہر نقل و حرکت کو ریکارڈ کریں گے۔
 اب پولیس انویسٹی گیشن کے دوران آڈیو اور ویڈیو ریکارڈنگ لازمی ہوگی تاکہ تفتیشی عمل میں کسی بھی قسم کی ہیرا پھیری کا راستہ روکا جا سکے۔ شہریوں کی سہولت کے لیے ایف آئی آر کا آن لائن ٹریکنگ سسٹم متعارف کرایا جا رہا ہے، جس کے ذریعے درخواست گزار اپنی شکایت کی صورتحال گھر بیٹھے جان سکیں گے۔
مریم نواز نے سخت ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس کا کام عوام کو ڈرانا نہیں بلکہ ان کا تحفظ کرنا ہے۔ تین ماہ کے اندر پنجاب کے تھانوں کا نقشہ بدل جانا چاہیے۔ یہ اقدامات پنجاب پولیس کو ایک جدید اور عوامی فورس بنانے کی جانب پہلا قدم قرار دیے جا رہے ہیں۔

مزیدخبریں