افغان باشندوں کے گرد عالمی گھیرا تنگ: انتہا پسند پالیسیاں دنیا کے لیے سکیورٹی چیلنج بن گئیں، ترکیہ میں بڑی کارروائی

12:52 PM, 15 Feb, 2026

کابل: افغانستان میں طالبان رجیم کی انتہا پسند پالیسیوں اور ملک میں بڑھتے ہوئے عدم استحکام نے افغان مہاجرین کے مسئلے کو دنیا بھر کے لیے ایک سنگین سکیورٹی اور انتظامی چیلنج بنا دیا ہے۔ عالمی برادری نے اب غیر قانونی قیام اور مشکوک سرگرمیوں کے خلاف سخت ترین رویہ اختیار کرنا شروع کر دیا ہے۔
تازہ ترین بین الاقوامی کارروائی میں ترکیہ کے سکیورٹی اداروں نے ایک بڑا آپریشن کرتے ہوئے    18 غیر قانونی افغان باشندوں کو گرفتار کر لیا ہے۔    تمام گرفتار افراد کو فوری طور پر ملک بدری کے مراکز (Deportation Centers) منتقل کر دیا گیا ہے۔    حکام کا کہنا ہے کہ غیر قانونی قیام اور ملکی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ افغانستان کی موجودہ صورتحال نے نہ صرف پڑوسی ممالک بلکہ پوری دنیا کو خطرے میں ڈال دیا ہے ۔    سکیورٹی خطرات: انتہا پسند پالیسیوں کے باعث دہشت گرد عناصر کی نقل و حرکت میں اضافہ ہوا ہے۔بڑی تعداد میں غیر قانونی مہاجرین کی منتقلی سے میزبان ممالک کے معاشی اور انتظامی ڈھانچے پر بوجھ بڑھ گیا ہے۔
ترکیہ کی حالیہ کارروائی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اب عالمی برادری افغان باشندوں کی غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف "زیرو ٹالرنس" پالیسی اپنا رہی ہے۔
ماہرینِ خارجہ امور کے مطابق، جب تک افغانستان میں سیاسی استحکام اور انسانی حقوق کی صورتحال بہتر نہیں ہوتی، افغان باشندوں کے لیے دنیا بھر میں زمین تنگ ہوتی رہے گی۔ مختلف ممالک کی جانب سے ملک بدری کے اقدامات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ اب عالمی امن کے لیے انفرادی سکیورٹی خطرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

مزیدخبریں