تہران: مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیشِ نظر برطانیہ نے خطے میں اپنے جنگی طیارے اور دیگر فوجی اثاثے تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کو ممکنہ خطرات کے پیشِ نظر برطانیہ ہنگامی معاونت فراہم کرے گا۔
کیئر اسٹارمر نے G7 اجلاس کے لیے روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، "ہم مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی بڑھا رہے ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے تیار رہیں۔"
ڈاؤننگ اسٹریٹ کے مطابق برطانیہ اضافی فاسٹ جیٹ طیارے اور فضاء میں ایندھن بھرنے والے جہاز خطے میں بھیج رہا ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر اسرائیل کی فضائی مدد کی جا سکے۔
ایرانی ردعمل: خلیج فارس میں برطانوی بحری جہاز کو روکا گیا
ایران نے برطانیہ کے اس اقدام پر سخت ردعمل دیا ہے۔ ایرانی فوج کے مطابق خلیج فارس میں موجود ایرانی بحریہ نے برطانوی نیوی کے ڈسٹرایئر جہاز کو علاقے میں داخل ہونے سے روک دیا ہے، اور ایرانی ڈرون مسلسل برطانوی جنگی جہاز کے قریب پروازیں کر رہے ہیں۔
ایرانی بحریہ کے مطابق برطانوی جہاز کو بحر ہند میں داخلے کے بعد سے ہی مانیٹر کیا جا رہا تھا، اور خدشہ ہے کہ یہ جہاز اسرائیلی میزائل سسٹم کی رہنمائی کے لیے خلیج فارس میں لایا جا رہا ہے۔ ایرانی حکام نے برطانوی بیڑے کو سخت وارننگ بھی جاری کی ہے کہ وہ خطے کی حدود میں داخل نہ ہو۔