واشنگٹن : ایران کی جانب سے اسرائیل پر مسلسل حملوں کے بعد امریکا نے مشرق وسطیٰ میں اپنے فوجی دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے اہم قدم اٹھایا ہے۔ امریکی وزیردفاع پیٹ ہیگسیتھ نے تصدیق کی ہے کہ امریکا نے یوکرین سے کچھ ڈرون اور میزائل دفاعی نظام مشرق وسطیٰ منتقل کیے ہیں۔
امریکی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں پیٹ ہیگسیتھ نے کہا، "ہم سے بار بار پوچھا جا رہا ہے کہ آیا یہ دفاعی نظام یوکرین سے ہٹائے گئے ہیں، تو میرا جواب ہے: ہاں۔ ہم اپنے لوگوں کی حفاظت کے لیے تمام وسائل بروئے کار لا رہے ہیں۔"
یوکرین کا احتجاج
ادھر یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے امریکا کے اس اقدام پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ "یوکرین کے لیے فراہم کیے گئے 20 ہزار میزائل روس کے خلاف استعمال ہونے کے بجائے مشرق وسطیٰ منتقل کر دیے گئے ہیں، جو ہمارے لیے تشویشناک ہے۔"
امریکا کی مبینہ شراکت اور اسرائیل کی مدد
اسی دوران امریکی میڈیا میں یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے بعض عرب ممالک نے بھی ایران کے حملوں کو روکنے کے لیے اسرائیل کی مدد کی ہے۔
معروف امریکی صحافی ٹکر کارلسن نے اس سلسلے میں بڑا انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران پر اسرائیلی حملوں سے پہلے سے آگاہ تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ "امریکا اس ساری صورتحال میں مکمل طور پر شامل ہے، اور اسرائیل کو نہ صرف پیشگی اطلاع تھی بلکہ واشنگٹن نے عملی طور پر بھی تعاون کیا۔"