اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی سربراہی میں پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان ورچوئل مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔
وزارت خزانہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، مذاکرات میں پاکستانی وفد کی قیادت وزیر خزانہ کر رہے ہیں، جب کہ سیکریٹری خزانہ امداد بوسال سمیت دیگر اعلیٰ حکام بھی شریک ہیں۔
ذرائع کے مطابق بات چیت کا محور آئندہ مالی سال کا بجٹ ہے، اور مذاکرات مئی کے تیسرے ہفتے تک جاری رہنے کا امکان ہے۔
وزارت خزانہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ مالی سال 2025-2024 کے لیے وفاقی بجٹ کا ابتدائی خسارہ 7,222 ارب روپے یا جی ڈی پی کے 5.5 فیصد تک رہنے کا اندازہ لگایا گیا ہے، تاہم 1,360 ارب روپے کے صوبائی سرپلس کو شامل کرنے کے بعد مجموعی بجٹ خسارہ کم ہو کر 5,862 ارب روپے یا جی ڈی پی کے 4.4 فیصد تک آ جائے گا۔
آئندہ مالی سال کے لیے وفاقی حکومت کی کل آمدن کا تخمینہ 19,111 ارب روپے لگایا گیا ہے، جس میں:
ایف بی آر کی ٹیکس آمدن: 15,270 ارب روپے
نان ٹیکس آمدن: 3,841 ارب روپے شامل ہے۔
دوسری جانب، مجموعی اخراجات کا تخمینہ 17,553 ارب روپے ہے، جس میں سب سے بڑا حصہ سود کی ادائیگی کا ہوگا۔ دیگر اخراجات میں دفاع، پنشن، تنخواہیں، ترقیاتی منصوبے، سبسڈیز اور گرانٹس شامل ہیں۔