سابق وزیراعظم عمران خان کی سیاست میں توہماتی رجحانات پر مبنی ہے۔ اس بارے میں دی اکانومسٹ کی رپورٹ میں تہلکہ خیز انکشافات ہوئے ہیں۔ سینئر صحافی اوون بینیٹ جونز کے مطابق مضمون میں خان کو سیاسی کمزوری کے دور میں دکھایا گیا ہے، جہاں وہ روحانی رہنمائی اور دنیاوی کامیابی کے لیے بشریٰ بی بی کی طرف رجوع کرتے نظر آتے ہیں۔
رپورٹ میں سابق وزیراعظم کی بشریٰ بی بی سے تیسری شادی کے بعد نہ صرف ان کی ذاتی زندگی بلکہ ان کے انداز حکمرانی پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
اس رپورٹ میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ سابق گھریلو ملازمین کے مطابق روزانہ گائے کے گوشت، سیاہ جانوروں کے سر اور کلیجی کے مطالبات ہوتے، اور گوشت کو خان کے سر کے گرد گھمایا جاتا تھا تاکہ مبینہ "برے اثرات"یعنی بدی کے اثرات دور کیے جائیں، جس سے قومی رہنما کے گرد توہم پرستی کا تاثر ملتا ہے۔اس رپورٹ کے مطابق ایک کابینہ رکن کا کہنا ہے کہ ریاستی امور میں بشریٰ بی بی کی مداخلت مکمل تھی، جو ادارہ جاتی اور میرٹ پر مبنی حکمرانی کے پی ٹی آئی کے دعوے کی نفی کرتا ہے۔
ڈرائیور اور عملہ بتاتا ہے کہ خان تک رسائی، پرواز کے اوقات، اور جہاز کے اڑان بھرنے کا فیصلہ بھی بشریٰ کی منظوری پر ہی ہوتا تھا ، یوں ایک قومی رہنما کا شیڈول پیرانہ نظام کے تابع دکھایا گیا۔
اس رپورٹ میں ایک اہم انکشاف کیا گیااوراس میں جہانگیر ترین کے متعلق بتایاگیا کہ انہوں نے بشریٰ بی بی کی جانب سے کالا جادو کے خدشات کا ذکر کیاتھا، جس کے بعد انہیں نظر انداز کر دیا گیا،اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پارٹی نہیں بلکہ اندرونی سرگوشیاں سیاسی فیصلے طے کرتی تھیں۔ جریدے کی رپورٹ کے مطابق عون چوہدری بھی اسی وجہ سے زیرِ عتاب آئے، عمران خان نے انہیں حلف برداری سے چند گھنٹے پہلے پیغام بھیجا کہ بشریٰ بی بی نے خواب میں دیکھا ہے کہ اگر وہ تقریب میں موجود ہوں تو وہ شریک نہیں ہوں گی، اور اگلے دن عون چوہدری کو عہدے سے ہٹا دیا گیا، گھر کے عملے اور قریبی ساتھیوں کے مطابق عمران خان سیاسی اور سرکاری فیصلوں سے پہلے بشریٰ بی بی سے رائے لیتے تھے ۔
رپورٹ کے مطابق یہ مضمون واضح کرتا ہے کہ خان کی 2018 کی جیت کو وسیع پیمانے پر فوج اورحساس ادارے کے ایک افسر کی مدد کا نتیجہ سمجھا گیا۔رپورٹ کے مطابق بشریٰ بی بی کی مبینہ کرپشن کی رپورٹ کے بعد لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کوعہدے سے ہٹادیاتھا۔
یہ مضمون خان کے لاکھوں گھروں اور نوکریوں کے وعدوں کو یاد دلاتا ہے، پھر معاشی ناکامی اور خود ان کے اس اعتراف کی جانب اشارہ کرتا ہے کہ ایک مدت میں تبدیلی ممکن نہیں، یوں “نیا پاکستان” کا وعدہ کمزور پڑتا ہے۔مہنگے تحائف اور القادر ٹرسٹ جیسے معاملات کی تفصیل، اور ان کیسز میں خان اور بشریٰ بی بی کو دی گئی سزاؤں کا ذکر ان کے اینٹی کرپشن امیج پر براہِ راست ضرب ہے۔
رپورٹ میں بتایاگیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف ایک اخلاقی حاکم جماعت تھی اور ایسی جماعت تھی جس میں طاقت کا محور ومرکز بشری بی بی تھی ۔ فیصلے خوابوں اور ذاتی پسند پر ہوتے ، نہ کہ پارٹی کے ادارہ جاتی طریقہ کار کے مطابق ہوتے تھے۔یہ رویہ پارٹی کے دعوے "ادارہ جاتی جمہوریت" کے برعکس ہے اور اس کے اندرونی ڈھانچے پر سوالیہ نشان لگاتا ہے۔
اس مضمون میں اس بات کا بھی احاطہ کیاگیا ہے کہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کارکنوں نے فوجی تنصیبات اور تاریخی علامتوں پر حملے کیے، جس سے تحریک کو ایسے گروہ کے طور پر دکھایا گیا ہے جو سرخ لکیریں عبور کرتا ہے مگر دعویٰ اداروں کے دفاع کا کرتا ہے۔
اگرچہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بعض حلقوں میں بشریٰ پر مبنی نسوانیت مخالف حملے سامنے آتے ہیں، لیکن خبروں اور مبصرین کی رپورٹس انہیں ایک غیر منتخب شخصیت کے طور پر ظاہر کرتی ہیں جس کا پارٹی کے اندر غیر مرئی مگر نمایاں اثر ہے۔ یہ صورتحال پی ٹی آئی کے شفاف اور قانون پر مبنی سیاسی عمل کے دعوے کے منافی قرار دی جاتی ہے۔رپورٹ میں اس بات کا انکشات کیاگیا کہ عمران خان بھولے بھالے ہیں اور بشریٰ بی بی کے ساتھ جڑے تنازعات سے بے خبر رہتے ہیں، جس سے وہ ایک ایسے رہنما دکھائی دیتے ہیں جو روحانی اور ادارہ جاتی اثرات کا آسان شکار بنتے ہیں۔
بانی پی ٹی آئی کی سیاست میں توہماتی رجحانات، دی اکانومسٹ کی رپورٹ میں تہلکہ خیز انکشافات
05:10 PM, 15 Nov, 2025