سود کی شرح میں استحکام، ایس ایم تنویر کا مایوسی کا اظہار

07:53 PM, 15 Sep, 2025

لاہور:، یو بی جی کے پیٹرن ان چیف اور  ایف پی سی سی آئی کے رہنما جناب ایس ایم تنویر نے سٹیٹ بینک آف پاکستان کے پالیسی ریٹ کو برقرار رکھنے کے فیصلے پر گہری مایوسی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ سٹیٹ بینک نے ملکی معیشت کی فوری ضروریات کو نظر انداز کیا ہے۔

ایس ایم  تنویر کا کہنا ہے کہ مہنگائی قابو میں ہے اور صارف قیمت اشاریہ (CPI) بھی نمایاں حد تک کم ہے، اس کے باوجود بلند شرح سود معاشی ترقی کو روک رہی ہے اور کاروباری شعبے اور صارفین کو مزید مشکلات کا سامنا ہے۔ بلند پالیسی ریٹ سرمایہ کاری کو متاثر کر رہا ہے، روزگار کے مواقع کم ہو رہے ہیں اور صنعتی شعبے پر اضافی بوجھ پڑ رہا ہے جو ملک کی معاشی ترقی کے لیے نہایت اہم ہے۔

انہوں نے کہا میری رائے میں، 6 فیصد کی شرح سود تک نمایاں کمی کے بغیر کوئی معاشی بہتری ممکن نہیں۔ اس اقدام سے نہ صرف معاشی سرگرمیاں فروغ پائیں گی بلکہ کاروبار کے لیے قرضہ حاصل کرنا بھی آسان ہوگا جو ترقی کا باعث بنے گا۔  انہوں نے  مزیدکہا کہ بجلی کے نرخوں کو 9 سینٹ فی یونٹ کی علاقائی مسابقتی سطح پر لانا ضروری ہے تاکہ کاروباری لاگت کم ہو، برآمدات میں اضافہ ہو اور مجموعی معاشی خوشحالی حاصل ہو سکے۔

واضح رہے کہ سٹیٹ بینک کا موجودہ پالیسی ریٹ 11 فیصد ہے، جو مئی 2025 سے تبدیل نہیں ہوا۔ حالیہ فیصلہ 15 ستمبر 2025 کو بھی اسی سطح پر برقرار رکھا گیا، جو کہ سیلاب کی وجہ سے خوراک کی قیمتوں میں اضافے اور کرنسی پر دباؤ کے پیش نظر محتاط رویہ کی عکاسی کرتا ہے۔

اسی دوران، یو بی جی کے پیٹرن ان چیف نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری طور پر پالیسی ریٹ پر نظر ثانی کرے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ اقتصادی حالات میں نرم پالیسی اختیار کرنا ناگزیر ہے تاکہ معیشت کو بحال کیا جا سکے اور کاروباری طبقے کی حمایت کی جا سکے۔ "اس اہم فیصلے میں تاخیر معاشی کساد بازاری کو طول دے گی اور پاکستان کی ترقی میں رکاوٹ بنے گی،" انہوں نے کہا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری اقدامات کیے جائیں تاکہ ترقی کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا جا سکے۔

مزیدخبریں