واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ روس اور یوکرین نے ایک دوسرے کی تیل اور توانائی تنصیبات کو نشانہ نہ بنانے پر اتفاق کیا ہے۔
ٹرمپ کے مطابق یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی سے گفتگو کے دوران روسی ڈیزل اور ایندھن کی تنصیبات پر حملے روکنے پر زور دیا گیا، جس پر زیلنسکی نے روسی تیل تنصیبات کو نشانہ نہ بنانے پر رضامندی ظاہر کی۔
امریکی صدر کا کہنا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن بھی اس سے قبل یوکرین کی تیل تنصیبات پر حملے نہ کرنے کی یقین دہانی کرا چکے ہیں۔ ان کے بقول دونوں ممالک کی توانائی تنصیبات پر حملے رکنے سے عالمی منڈی میں تیل کی قلت کا خدشہ کم ہوگا۔
تاہم روس اور یوکرین کی جانب سے تاحال کسی باضابطہ معاہدے یا مکمل جنگ بندی کی تصدیق نہیں کی گئی۔
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو حملوں سے محفوظ رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ٹرمپ کی اپیل کا خیرمقدم کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق حالیہ مہینوں میں یوکرینی ڈرون حملوں سے روس کی متعدد آئل ریفائنریوں اور توانائی تنصیبات کو نقصان پہنچا، جس کے باعث ایندھن کی پیداوار متاثر ہوئی۔ دوسری جانب روسی حملوں سے یوکرین کے بجلی اور گیس سمیت اہم بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچتا رہا ہے۔
یوکرین کا مؤقف ہے کہ روسی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا مقصد ماسکو کی جنگی صلاحیت کو کمزور کرنا اور روس پر معاشی دباؤ بڑھانا ہے۔