واشنگٹن ڈی سی میں سکھ برادری کا 17 اگست کو خالصتان ریفرنڈم، بین الاقوامی حمایت حاصل

03:09 PM, 16 Aug, 2025

 واشنگٹن:امریکہ میں مقیم سکھ برادری 17 اگست کو واشنگٹن ڈی سی میں خالصتان ریفرنڈم میں بڑی تعداد میں شرکت کرے گی۔ یہ ریفرنڈم سکھوں کے جمہوری حقوق کا اظہار ہوگا، جس میں سکھ برادری کی پرامن سیاسی جدوجہد کو عالمی سطح پر تسلیم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

امریکی حکام نے سکھوں کے جمہوری حقوق کا دفاع کرتے ہوئے ریفرنڈم کے انعقاد کی اجازت دی ہے، جو سکھوں کی سیاسی آزادی کی حمایت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔امریکی عدالت نے بھارتی ایجنٹ نکھل گپتا اور RAW کے افسر کو سکھ رہنما گرپت ونت پنہوں کے قتل کی سازش پر ملک بدر کر دیا ہے۔ یہ اقدام بھارت کے خلاف عالمی سطح پر سکھوں کی حمایت کو مزید مضبوط کرتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خالصتان تحریک کے رہنما گرپت ونت پنہوں کو سیکورٹی کی ضمانت فراہم کی ہے۔ اس کے علاوہ، کینیڈا، امریکہ اور آسٹریلیا نے بھارتی خفیہ نیٹ ورکس کو بے نقاب کرتے ہوئے سکھ کارکنوں کی حفاظت کو یقینی بنایا ہے۔
2021 سے اب تک 8 ممالک میں خالصتان ریفرنڈم کامیابی سے منعقد ہو چکے ہیں۔ عالمی عدالتوں نے سکھوں کے حقوق کے حوالے سے بھارتی درخواستوں کو مسترد کیا ہے اور سکھ برادری کی پرامن جدوجہد کو تسلیم کیا ہے۔
بھارتی پروپیگنڈے اور دباؤ کے باوجود، مغربی ممالک کی عدالتوں نے خالصتان ریفرنڈمز کو غیر قانونی قرار دینے کی بھارتی درخواستوں کو مسترد کر دیا ہے۔ اس سے عالمی سطح پر سکھ برادری کی جدوجہد کو ایک قانونی اور پرامن تحریک کے طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔
سکھ برادری کا واضح پیغام ہے کہ وہ بین الاقوامی قوانین کے تحت اپنے حقوق کے لیے پرامن طریقے سے جدوجہد کر رہے ہیں، اور ان کی یہ تحریک عالمی سطح پر تسلیم کی جانی چاہیے۔

17 اگست کا ریفرنڈم سکھ برادری کی جمہوری اور قانونی جدوجہد کا ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔

مزیدخبریں