پاکستان میں دولت کی شدید غیر مساوی تقسیم، چند امیر طبقے کے پاس اکثریتی وسائل: عالمی رپورٹ

02:42 PM, 16 Dec, 2025

اسلام آباد: پاکستان میں آمدنی اور دولت کی غیر مساوی تقسیم بدستور برقرار ہے، جہاں چند امیر افراد ملک کی بڑی معاشی طاقت پر قابض ہیں۔ اس بات کا انکشاف عالمی رپورٹ ورلڈ ان ایکویلیٹی رپورٹ 2026 میں کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان کے امیر ترین 10 فیصد افراد ملک کی کل آمدنی کا 42 فیصد اور مجموعی دولت کا 59 فیصد کنٹرول کرتے ہیں، جبکہ غریب ترین 50 فیصد آبادی کو صرف 19 فیصد آمدنی حاصل ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق ملک کے امیر ترین 1 فیصد افراد کے پاس کل دولت کا 24 فیصد موجود ہے، جو پاکستان میں دولت کی انتہائی غیر متوازن تقسیم کو ظاہر کرتا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں فی کس اوسط آمدنی تقریباً 4,200 یورو اور اوسط دولت 15,700 یورو کے لگ بھگ ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران آمدنی کی تقسیم میں صرف معمولی بہتری آئی ہے۔ 2014 سے 2024 کے دوران امیر ترین 10 فیصد اور غریب ترین 50 فیصد کے درمیان فرق 22 سے کم ہو کر 21.4 تک آیا۔

صنفی عدم مساوات کے حوالے سے رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ خواتین کی لیبر فورس میں شمولیت 9.8 فیصد سے کم ہو کر 8.5 فیصد رہ گئی، جو خواتین کی محدود معاشی شمولیت کی عکاسی کرتی ہے۔

عالمی سطح پر بھی دولت اور آمدنی کی تقسیم انتہائی غیر مساوی قرار دی گئی ہے۔ دنیا کے امیر ترین 10 فیصد افراد عالمی دولت کا تقریباً 75 فیصد کنٹرول کرتے ہیں، جبکہ دنیا کے غریب ترین نصف افراد کے پاس صرف 2 فیصد دولت موجود ہے۔

رپورٹ کے مطابق دنیا کے صرف 0.001 فیصد انتہائی امیر افراد، جن کی تعداد تقریباً 60 ہزار ہے، دنیا کے غریب ترین نصف افراد سے زیادہ دولت رکھتے ہیں۔

یہ رپورٹ پیرس میں قائم ورلڈ ان ایکویلیٹی لیب نے شائع کی ہے، جو عالمی سطح پر آمدنی اور دولت کی تقسیم کے رجحانات پر تحقیق کرتی ہے۔

مزیدخبریں