بھارت کے شکسگام وادی کے دعوے پر چین کا سخت ردعمل

06:58 PM, 16 Jan, 2026

 بیجنگ: چین نے بھارتی وزارت خارجہ کے شکسگام وادی سے متعلق دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ شکسگام چین کا حصہ ہے۔ پیر کو چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے پریس کانفرنس کے دوران پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ چین کو اپنی سرزمین پر تعمیراتی سرگرمیاں کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔

انہوں نے کہا کہ جس علاقے کا ذکر کیا جا رہا ہے وہ چین کا حصہ ہے، اور چین نے اس حوالے سے اپنے موقف کو واضح کر دیا ہے۔

یاد رہے کہ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے جمعہ کو کہا تھا کہ شکسگام وادی بھارتی علاقہ ہے اور نئی دہلی اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ انہوں نے 1963 میں ہونے والے چین پاکستان سرحدی معاہدے کو تسلیم نہ کرنے کا بھی ذکر کیا، اور اسے غیر قانونی اور کالعدم قرار دیا۔

بھارتی ترجمان نے یہ بھی کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کو بھارت تسلیم نہیں کرتا، اور جموں و کشمیر کے تمام یونین ٹیریٹریز کو بھارت کا اٹوٹ حصہ قرار دیا۔

چینی ترجمان ماؤ ننگ نے بھارت کے اس موقف پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ چین اور پاکستان نے 1960 کی دہائی میں سرحدی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس میں دونوں ممالک نے اپنی سرحدوں کو متعین کیا تھا، جو خودمختار ریاستوں کا حق ہے۔

ماؤ ننگ نے مزید کہا کہ CPEC ایک اقتصادی تعاون کا منصوبہ ہے، جس کا مقصد مقامی سماجی و اقتصادی ترقی اور عوام کی زندگی کے معیار کو بہتر بنانا ہے۔ ان کے مطابق، چین پاکستان سرحدی معاہدہ اور CPEC کشمیر کے مسئلے پر چین کے موقف کو متاثر نہیں کرتے، اور چین کا موقف بدستور قائم ہے۔

چین اور بھارت کے درمیان سرحدی تنازعات کئی دہائیوں سے جاری ہیں، تاہم 2024 میں دونوں ممالک نے ہمالیائی سرحد پر فوجی کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک معاہدہ کیا تھا، جس کے بعد تعلقات بہتر بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔

اس کے باوجود، اروناچل پردیش سمیت مختلف علاقوں پر چین اور بھارت کے درمیان تنازع برقرار ہے، جسے چین زانگنان کہتا ہے اور جنوبی تبت کا حصہ سمجھتا ہے، جبکہ بھارت ان دعووں کو مسلسل مسترد کرتا آیا ہے۔
 
 

مزیدخبریں