اسلام آباد: یورپی یونین کی تازہ جی ایس پی پلس رپورٹ نے پاکستان کی معاشی اہمیت، برآمدی کارکردگی اور ادارہ جاتی اصلاحات کو مثبت انداز میں سراہتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اس سہولت کا سب سے بڑا فائدہ اٹھانے والا ملک ہے، جس سے برآمدات، روزگار اور صنعتی پیداوار میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان بدستور جی اسی پی پلس سکیم سے سب سے زیادہ مستفید ہونے والا ملک ہے، جبکہ یورپی منڈی میں پاکستانی مصنوعات کی رسائی مزید مستحکم ہوئی ہے۔ پاکستان نے رعایتی تجارتی سہولت کے استعمال کی شرح 95.1 فیصد تک پہنچا دی ہے، جو اس کی برآمدی صلاحیت اور مسابقت کا واضح ثبوت ہے۔
رپورٹ کے مطابق 2024 میں پاکستان کی 7.482 ارب یورو مالیت کی برآمدات جی ایس پی پلس ترجیحات کے لیے اہل تھیں، جن میں سے 7.115 ارب یورو کی برآمدات نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔ یوں ترجیحی سہولت کے استعمال کی شرح 95.1 فیصد رہی، جو پاکستانی برآمد کنندگان کی مؤثر حکمت عملی اور عالمی منڈی میں مسابقت کی عکاسی کرتی ہے۔
یورپی یونین پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈی رہی، جہاں ملک کی مجموعی برآمدات کا 28 فیصد حصہ گیا۔ رپورٹ کے مطابق 2024 میں پاکستان کو تقریباً 732 ملین یورو کی ٹیرف چھوٹ حاصل ہوئی، جو یورپی منڈی میں پاکستانی مصنوعات کے لیے اہم تجارتی فائدہ ثابت ہوئی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کے اہم برآمدی شعبوں، جن میں ٹیکسٹائل، کپڑے، چمڑا، تیار شدہ غذائی مصنوعات اور دیگر صنعتی مصنوعات شامل ہیں، نے جی ایس پی پلس سہولت کا بھرپور استعمال کیا۔ ان شعبوں میں ترجیحی سہولت کے استعمال کی شرح 93.6 فیصد سے 97.7 فیصد کے درمیان رہی، جس سے لاکھوں افراد کے روزگار اور صنعتی سرگرمیوں کو سہارا ملا۔
یورپی یونین نے پاکستان کی جانب سے جی ایس پی پلس سے منسلک 27 بین الاقوامی کنونشنز پر عمل درآمد جاری رکھنے کو بھی سراہا۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان نے ان معاہدوں کی توثیق برقرار رکھی، نئی شرائط عائد نہیں کیں اور عالمی اداروں کے ساتھ رپورٹنگ کے تقاضے پورے کیے۔
انسانی حقوق اور انصاف کے شعبے میں بھی پاکستان کی پیش رفت کا اعتراف کیا گیا ہے۔ قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کو 2024 میں بین الاقوامی سطح پر GANHRI اے اسٹیٹس حاصل ہوا، جبکہ خواتین اور بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے قائم ادارے بھی فعال رہے۔
رپورٹ میں جیل اصلاحات، انسداد تشدد اقدامات، عدالتی تربیت اور سپریم کورٹ میں زیر التوا مقدمات میں کمی کو ادارہ جاتی بہتری کی جانب اہم اقدامات قرار دیا گیا ہے۔ سزائے موت کے دائرہ کار سے چار جرائم کے اخراج، دسمبر 2019 کے بعد پھانسیوں پر عمل درآمد نہ ہونے اور اکتوبر 2025 میں صدارتی رحم کے اقدامات کو بھی مثبت پیش رفت کے طور پر شامل کیا گیا۔
خواتین اور بچوں کے حقوق کے حوالے سے رپورٹ میں تمام صوبوں اور اسلام آباد میں گھریلو تشدد سے متعلق قانون سازی کی تکمیل، سندھ میں ازدواجی زیادتی کے پہلے مقدمے میں سزا اور کم عمری کی شادیوں کے خلاف اصلاحات کو نمایاں کیا گیا ہے۔
تعلیم اور سماجی تحفظ کے شعبوں میں بھی اقدامات کو سراہتے ہوئے رپورٹ میں نیشنل ایجوکیشن ایمرجنسی ایکشن پلان، اساتذہ کی بھرتی، اسکولوں کی بحالی اور اسلام آباد میں ہزاروں بچوں کے داخلے کی مہم کا ذکر کیا گیا ہے۔
محنت کشوں کے حقوق کے شعبے میں پاکستان کی جانب سے جبری مشقت کے خاتمے سے متعلق اقدامات، ضلعی نگرانی کمیٹیوں کے قیام، چائلڈ لیبر ایکشن پلانز، اجرتی اصلاحات اور چھوٹے کاروباروں کو رسمی معیشت کا حصہ بنانے کے اقدامات کو مثبت قرار دیا گیا۔
ماحولیاتی شعبے میں پاکستان کی پیش رفت کو بھی رپورٹ کا حصہ بنایا گیا ہے۔ یورپی یونین نے موسمیاتی تبدیلی سے متعلق ذمہ داریوں کی تکمیل، کیگالی ترمیم کی توثیق، صاف ہوا، حیاتیاتی تنوع اور خطرناک فضلے سے متعلق پالیسی اقدامات کو سراہا۔
رپورٹ میں پاکستان کی CITES کیٹیگری ون میں اپ گریڈیشن کو عالمی ماحولیاتی معیارات پر پورا اترنے کی علامت قرار دیا گیا ہے۔حکمرانی کے شعبے میں پاکستان کی جانب سے اقوام متحدہ کے انسداد بدعنوانی کنونشن کے جائزے کی تکمیل، ادویات کے شعبے میں نگرانی کے نظام کی بہتری، انسداد منشیات قوانین میں اصلاحات اور ڈیجیٹل کیس مینجمنٹ نظام کے نفاذ کو بھی اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔
یورپی یونین نے 2021 سے 2027 کے دوران پاکستان کے لیے 400 ملین یورو کی معاونت کا بھی ذکر کیا ہے، جو تجارت کے علاوہ سبز ترقی، تعلیم، انسانی سرمایہ، موسمیاتی لچک، قانون کی حکمرانی، ہنرمندی کے فروغ اور خواتین کی معاشی شمولیت جیسے شعبوں میں تعاون کو فروغ دے گی۔
رپورٹ مجموعی طور پر پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان مضبوط تجارتی شراکت داری، مسلسل اصلاحاتی عمل اور مستقبل میں تعاون کے وسیع امکانات کی عکاسی کرتی ہے۔یورپی یونین کی رپورٹ میں پاکستان کی جانب سے حکمرانی کے شعبے میں کیے گئے اصلاحاتی اقدامات کو بھی تسلیم کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان نے اقوام متحدہ کے انسداد بدعنوانی کنونشن (UNCAC) کے دوسرے مرحلے کے نفاذی جائزے کو مکمل کیا، ادویات کے شعبے میں نگرانی اور کنٹرول کے نظام کو مزید مضبوط بنایا، انسداد منشیات قوانین میں بہتری لائی اور عدالتی نظام میں شفافیت و مؤثریت کے لیے ڈیجیٹل کیس مینجمنٹ میکنزم متعارف کرائے۔