تہران :ایران نے اسرائیل پر ایک اور بڑا حملہ کیا ہے، جس میں 100 کے قریب بیلسٹک میزائل اسرائیل کے مختلف شہروں پر داغے گئے۔ حملے کے بعد وسطی اسرائیل میں بجلی بند ہو گئی، حیفہ کا شہر اندھیرے میں ڈوب گیا، اور مقبوضہ بیت المقدس سمیت کئی شہروں میں دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں۔ ایران کے میزائل اسرائیلی دفاعی نظام سے بچتے ہوئے شہر کے اندر تک پہنچ گئے اور کئی عمارتوں کو نشانہ بنایا۔
اس تازہ حملے میں کم از کم 7 اسرائیلی ہلاک اور 67 زخمی ہو گئے۔ ایران کے میزائل حملے کے بعد حیفہ پاور پلانٹ میں آگ بھڑک اٹھی، جب کہ تل ابیب اور ایلات پر بھی میزائل داغے گئے۔
دونوں ممالک نے اپنے شہریوں کے لیے نئی احتیاطی ہدایات جاری کر دی ہیں اور انہیں محفوظ علاقوں کی طرف منتقل ہونے کی ہدایت کی ہے، جس سے واضح طور پر یہ اشارہ مل رہا ہے کہ جنگ میں مزید شدت آ سکتی ہے۔
اسرائیل نے ایران کے جواب میں تازہ حملے کیے ہیں، جس میں ایرانی وزارت داخلہ اور تہران کے اہم اضلاع کو نشانہ بنایا گیا۔ ایران نے اسرائیل کے بن گورین ایئرپورٹ پر بھی میزائل حملے کا دعویٰ کیا ہے، اور ایک میزائل اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے آبائی گھر کو بھی نشانہ بنا چکا ہے۔
اسرائیلی ایمرجنسی سروسز کے مطابق شمالی اور وسطی اسرائیل میں میزائل اور ان کے ٹکڑے گرنے سے کم از کم 67 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ اس شدید کشیدگی کے دوران اسرائیلی حکومت نے ملک بھر میں ہنگامی صورتحال 30 جون تک توسیع دے دی ہے، جب کہ وزیراعظم نیتن یاہو نے تل ابیب کے تباہ شدہ علاقوں کا دورہ کیا۔